شرم نہیں آتی تمہیں ان سب غلاضتوں کے باواجود کہتے ہو بخاری اور مسلم کو قرآن کے برابر مانو۔


چند سوالات !!

چلیں جی بخاری شریف کی حدیث کا تجزیہ کرتے ھیں تا کہ ساتھیوں کو پتہ چلے کہ جب حدیث کی کتاب پڑھی جائے تو اسے کس طرح پڑھنا چاھیئے !!

وروى أيضا رحمه الله (رقم/5637) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضى الله عنه قَالَ :
(1- ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ ،) (2-فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا ،)( 3- فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ ،) فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَاءَهَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا ، فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ : قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّى . فَقَالُوا لَهَا : أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : لاَ . قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَخْطُبَكِ . قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ،،

1 – نبی کریم ﷺ کی مجلس میں عرب کی ایک عورت کا تذکرہ کیا گیا ،،( کیا نبی ﷺ کی مجلس ایسی ھی ھوتی تھی جہاں ھوٹل کی طرح لوگوں کی بہو بیٹیوں کے حسن و جمال کے چرچے ھوتے تھے ؟ یا صحابہؓ نبئ پاک کے مزاج آشنا تھے کہ کس موضوع پر بات کی جائے تو آپ کھِل اٹھتے ھیں ؟

2- . رسول اللہ ﷺ نے ابا اسید الساعدی کو حکم دیا کہ اس کی طرف بندہ بھیجو ،،، گویا صحابہؓ نے جو سوچا تھا عین ان کی توقع کے مطابق ردِ عمل ھوا ،، حکم دیا گیا کہ بندہ بھیج کر اسے بلاؤ ،، سوال یہ ھے کہ کیا نبی نکاح اسی طرح کیا کرتے ھیں کہ نہ اس کے باپ سے پوچھا نہ قبیلے سے رابطہ ،بس لڑکی کو اٹھا لاؤ ؟
وروى البخاري أيضا في صحيحه (5255) عَنْ أَبِى أُسَيْدٍ رضى الله عنه قَالَ :
( خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ ، فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اجْلِسُوا هَا هُنَا . وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِىَ بِالْجَوْنِيَّةِ ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتٍ أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ ، وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : هَبِي نَفْسَكِ لِي .
قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ . قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ : قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا )

ابی اسیدؓ فرماتے ھیں کہ ھم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے ، اور ایک ایسی جگہ پہنچے جسے شوط کہتے تھے اور اس کی دو دیواروں کے درمیان پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے ھمیں حکم دیا کہ تم یہیں بیٹھو اور خود جونیہ کے یہاں دخل ھو گئے وہ لائی گئ تھی اور( 3 -” امیمہ بنت النعمان بن شراحیل ") کے کھجوروں کے باغ میں اتاری گئ ( واضح رھے اس حدیث میں یہ خاتون میزبان ھے جس کے باغ میں جونیہ عورت اتاری گئ ھے ،،مگر بخاری ھی کی اگلی روایت بتاتی ھے کہ یہ امیمہ بنت النعمان خود دلہن تھی ،گویا اب جونیہ ایک مجھول چیز بن گئ ھے اور اس کی میزبان امیمہ خود بیوی بن گئ ھے مگر اس پر بھی ایک نیا سیاپا کھڑا ھو گیا ھے ،کہ یہ امیمہ بنت النعمان مدینے کی رھنے والی انصاری خاتون تھی ، حضور ﷺ کو دس سال ھو گئے تھے مدینے میں اور آپ نے 20 عیدیں پڑھائی تھیں جن میں عورتوں کو بھی جمع کیا جاتا تھا اور رسول اللہ عورتوں سے خصوصی خطاب کیا کرتے تھے ، کیا وہ انصاری عورت نبیﷺ کو پہچانتی نہیں تھی کہ اس نے اعوذ باللہ کہہ کر نبی ﷺ سے اللہ کی پناہ مانگ لی یا اس کو یہ تک نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کی شادی کس ھستی سے کی جا رھی ھے ؟ نیز اس کا یہ کہنا کہ کوئی ملکہ ایک عام شخص کے سپرد اپنا آپ کیسے کر سکتی ھے یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ کہیں دور دراز سے بلوائی گئ تھی اور سارے رستے اسے کسی نے یہ تک بتانے کی تکیلف گوارہ نہیں کی کہ اسے کیا سعادت حاصل ھونے والی ھے ؟ ،جیسا کہ کہانی گھڑنے والوں نے معذرت پیش کی ھے کہ وہ حضورﷺ کو جانتی نہیں تھی ؟ اور اگر اسی امیمہ بنت النعمان الانصاریہ سے نکاح ھوا تھا تو اس دن تو انصار مین عید کا دن ھونا چاھیئے تھا کہ نبی کے ساتھ ان کو رشتہ داری کا شرف حاصل ھو رھا تھا ،، پھر یہ لاوارثوں کی طرح عورت کو اٹھوا کر کسی باغ مین ملنے کا کیا مطلب ؟ کیا امیمہ کے باپ کے گھر سے ڈولی نہیں اٹھ سکتی تھی ؟

وروى أيضا قال : أخبرنا هشام بن محمد ، حدثني ابن الغسيل ، عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي ، عن أبيه – وكان بدريا – قال : ( تزوج رسول الله أسماء بنت النعمان الجونية )، فأرسلني فجئت بها ، فقالت حفصة لعائشة أو عائشة لحفصة : اخضبيها أنت وأنا أمشطها ، ففعلن ، ثم قالت لها إحداهما : إن النبي، صلى الله عليه وسلم يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول أعوذ بالله منك . فلما دخلت عليه وأغلق الباب وأرخى الستر مد يده إليها فقالت : أعوذ بالله منك

راوی وھی ھیں مگر اب قصہ نیا ٹوسٹ لے رھا ھے ،اب عورت کا نام اسماء بنت النعمان ھو گیا ھے ،، اس عورت کے سات نام لئے گئے ھیں سب سے مشہور امیمہ بن النعمان ھے ،، ابی ایسد الساعدیؓ فرماتے ھیں کہ حضورﷺ نے اسماء بنت النعمان سے شادی کی تو مجھے لینے بھیجا میں لے کر آیا تو حفصہؓ نے عائشہؓ سے کہا یا عائشہؓ نے حضرت حفصہؓ سے کہا کہ تو اس کو خضاب لگا اور میں اس کو کنگھی کرتی ھوں ،،،،،،،،، تو دونوں نے اپنا اپنا کام کیا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی جب کسی عورت کی خلوت میں داخل ھوں تو آپ کو یہ بہت اچھا لگتا ھے کہ وہ عورت کہے کہ اعوذ باللہ منک ،،،،،،، تو جب رسول اللہ ﷺ اس عورت کی خلوت میں گئے اور پردہ کھینچا تو اس نے کہا کہ آپ سے اللہ کی پناہ چاھتی ھوں ،، ،گویا اس مدنی عورت کو عربی تک نہیں آتی تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتی کہ جب کسی سے اللہ کی پناہ چاھی جاتی ھے تو اس کا کیا مطلب ھوتا ھے ،،

اگلا سوال علماء سے ھے کہ اس حدیث سے خانگی زندگی کا کونسا اسوہ اخذ کیا گیا ھے ؟

کیا بیوی اگر شوھر کو اللہ کا واسطہ دے کر حقِ زوجیت سے روکے تو شوھر کو اسے طلاق دے دینی چاھیئے ؟

کیا شوھر پر لازم ھے کہ وہ اس کو اپنی ذات سے اللہ کی پناہ دیتے ھوئے فارغ کر دے ؟

کیا نبئ کریم ﷺ کو سورہ التحریم میں شھد کی حرمت والے واقعے سے سبق نہیں مل چکا تھا کہ آپ کا عمل چونکہ لوگوں کے لئے ایک قانون کی حیثیت رکھتا ھے لہذا آپ کوئی ایسا عمل مت کریں جسے بعد والے قانون سمجھیں جبکہ اللہ کے نزدیک وہ شریعت کا قانون نہ ھو ؟

يرويها ابن سعد في الطبقات (8/144) بسنده عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى قال: (الجونية استعاذت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وقيل لها : هو أحظى لك عنده . ولم تستعذ منه امرأة غيرها ، وإنما خدعت لما رؤي من جمالها وهيئتها ، ولقد ذكر لرسول الله من حملها على ما قالت لرسول الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنهن صواحب يوسف ).
ابن سعد اپنے طبقات میں لکھتے ھیں کہ عورت کا حسن و جمال دیکھ کر اسے دھوکا دے کر تعوذ کہلوایا گیا تھا ،، یعنی حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ نے دھوکے کے ساتھ وہ جملہ کہلوایا تھا تا کہ اسے طلاق ھو جائے ، جب رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ اس عورت کس نے فریب دے کر یہ جملہ کہلوایا تھا تو ،، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” وہ سورہ یوسف والی ( فلما سمعت بمکرھن ) عورتیں ھیں ،،

وذكر آخرون من أهل العلم أن سبب استعاذتها هو تكبرها ، حيث كانت جميلة وفي بيت من بيوت ملوك العرب ، وكانت ترغب عن الزواج بمن ليس بِمَلِك ، وهذا يؤيده ما جاء في الرواية المذكورة أعلاه ، وفيها : ( فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : هَبِي نَفْسَكِ لِي . قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ . قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ : قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا )

دیگر اھل علم کے نزدیک اس عورت کے تکبر نے اسے اس تعوذ پر آمادہ کیا کیونکہ وہ اس شادی پر راضی نہیں تھی اور عرب کے بادشاھوں میں سے ایک بادشاہ کے گھر پلی بڑھی تھی لہذا کسی بادشاہ کے رشتے کی ھی امید لگائے بیٹھی تھی ،،اور یہ بات اس کے ان جملوں سے ثابت ھوتی ھے کہ جس میں روایت کیا گیا ھے کہ ” جب اس پر رسول ﷺ داخل ھوئے تو اسے کہا کہ مجھے اپنا آپ سونپ دو ،، اس پر اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ بھلا کوئی ملکہ کسی عام آدمی کو اپنا آپ سونپ سکتی ھے ؟ اس پر بھی رسول اللہ ﷺ نے کوشش کی کی اس کو تسلی دی جائے اور اپنا ھاتھ اس کی طرف بڑھایا جس پر اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاھتی ھوں ،جس پر آپ نے فرمایا کہ تو نے اس کی پناہ مانگی ھے جو واقعی پناہ دیتا ھے ، اور باھر نکل کر فرمایا کہ ابا اسید اسے کپڑوں کا جوڑا دے کر گھر والوں کے پاس پہنچا دو ،،،

اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ حجرے میں تو نبئ کریم ﷺ اور وہ عورت اکیلے تھے ،، کیمرے اور خفیہ مائیک کا زمانہ بھی نہیں تھا ،، کمرے کی باتیں باھر کیسے آئیں ؟ نبئ کریم ﷺ نے تو عجلہ عروسی کی باتیں شیئر کرنے سے خود منع فرمایا ھے ،، اور راوی یہ کہہ بھی نہیں رھے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا ھے ،تو پھر یہ تعوذ کس نے سنا تھا ،، راوی سے ھی کوئی اللہ کا بندہ پلٹ کر پوچھ لیتا ،مگر چونکہ راوی صحابی ھیں اور ھمارے محدثین کے نزدیک صحابی سے پلٹ کر سوال بھی نہیں کیا جا سکتا ،،لہذا اسٹوری بغیر وضاحت چل پڑی اور قیامت تک چلتی رھے گی ،،مگر ھمیں اللہ پاک یہ حکم دیتا ھے کہ جب تم کوئی خبر سنو تو تحقیق کر لیا کرو ،،یہ نبی ﷺ کی عزت اور بے عزتی کا معاملہ تھا لہذا ابا اسید سے یہ پوچھنا بہت ضروری تھا کہ اندر کی باتیں باھر کیسے نکلیں ؟ نیز نبی پاک سے منسوب کسی بھی بات کے بارے میں حضرت عمرؓ شدید رد عمل دیا کرتے تھے اور اس بندے کو کہتے تھے کہ اگر تم دوسرا گواہ نہ لے کر آئے تو واللہ میں تمہیں عبرت بنا دونگا ،،لہذا لوگ کم ھی کوئی حدیث روایت کرتے تھے کہ شاید دوسرا کوئی گواہ نہ ملے ،، حدیثوں کا ڈیم عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد ٹوٹ گیا ،،

اب اگلا سوال یہ ھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس توھین کو محسوس کیا یا نہیں کیا ؟ تو ابن سعد کی روایت کے مطابق آپ جونیہ کے پاس سے نکلے تو غصے کی حالت میں تھے ،،
ابن سعد طبقات میں لکہتے ہیں

جب اسماء بنت نعمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے باہر آگئے تب اشعث بن قیس نے کہا کہ آپ غمگین نہ ہوں میں آپ کا نکاح اس سے نہ کردوں جو اس سے حسب نسب میں کم نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کون اس نے کہا میری بہن قتیلہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نکاح کرلیا۔ پھر اشعث یمن اسے لینے گئے اور یمن سے آگے بڑھے تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو یہ دونوں بہن بہائی مرتد ہوگئے۔ پھر قتیلہ نے اور نکاح کرلیا کیوں کہ مرتد ہونے کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا تھا اور عکرمہ بن ابی جھل نے اس سے نکاح کیا۔

گویا آسمان سے گرا کھجور مین اٹکا ،، غصے میں باھر نکلے تو اشعث بن قیس نے ٹریپ کر لیا کہ فکر مت کریں میری بہن حسب و نسب و جاہ وجمال میں اس سے بڑھ کر ھے ،، اس پر آپ نے جھٹ فرمایا ” میں نے اس سے نکاح کر لیا ،، وہ بہن کو لینے گئے ابھی رستے میں تھے کہ پیچھے حضورﷺ کا وصال ھو گیا اور وہ دونوں بدبخت مرتد ھوگئے ،، یہ ایک نیا کلنک کا ٹیکہ لگ گیا اگرچہ رخصتی نہیں ھوئی تھی مگر لڑکی کے ولی کے ساتھ ایجاب و قبول ھونے کے بعد وہ قانونی ام المومنین بن گئ تھی اگرچہ دخول نہیں ھوا تھا ،،،،،،،،،،،،،،،، اگر حضورﷺ کی وراثت تقسیم ھوتی تو وہ لازم اس مین حصہ پاتی ،اگرچہ ارتداد کی وجہ سے محروم رھتی ،،،

بڑا سوال یہ ھے کہ جب نبئ کریم ﷺ جوان رعنا اور 25 سال کے کڑیل جوان تھے ،تب تو آپ میں جنسِ مخالف کے لئے یہ بےتابیاں ھر گز نہیں پائی جاتی تھیں ،، اور بڑے صبر اور شکر کے ساتھ اپنے سے عمر میں بڑی عورت کے ساتھ نہایت محبت کے ساتھ گزارا کیا ،، اور ان کی زندگی میں دوسری شادی کا نام تک نہیں لیا ،جبکہ اب تو زندہ سلامت 9 بیویاں گھر میں ھین جو بڑے بڑے سرداروں کی بیٹیاں ھیں ،مگر حضور ﷺ حسن و جمال کے چرچے سن کر گلیوں اور چوکوں ،کھیتوں اور کھلیانوں میں نکاح کرتے پھر رھے ھیں جبکہ جوانی کی بجائے جوڑوں کے درد نے گھیر رکھا ھے ، نماز میں بھی گھسٹ کر شریک ھوتے ھیں ،سجدے میں بھی ھاتھ ٹیک کر بیٹھتے ھیں ،قعدے میں بھی دونوں پاؤں پہ نہیں بیٹھا جاتا ،،

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s