امتِ مسلمہ


بچپن سے یہ لفظ سنتا آرہا ہوں مگر آج تک دیدار نصیب نہیں ہوا کیا بلا ہے یہ امتِ مسلمہ؟ کہاں پائی جاتی ہے یہ؟ پورے چودہ سو سال کی تاریخ میں اسکا کہیں کوئی وجود نہیں ملتا، جیسے کالا جادو کرنے والے گوگیا پاشا، عامل بنگالی وغیرہ قرآنی آیات کو بیچ کر اپنا دھندہ چمکاتے ہیں ٹھیک ویسے ہی یہ لفظ بیچ کر مولوی حضرات اپنا کاروبار چلاتے آرہے ہیں، خاص طور پر پاکستان میں دو چیزوں کے خریدار استنجے کے پتھر کی طرح وافر مقدار میں ملتے ہیں، وطن پرستی اور مذہب کے خریدار، یہ ہی دو چیزیں ہیں جنکو بیچ کر پاکستان کے سیاستدان، فوجی، اور ملا، تینوں اپنی روٹیاں سیدھی کرتے آرہے ہیں۔

ہمیں بتایا جاتا ہے، یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اسکے، جب کبھی بھی مصنوعی یکجہتی کی ضرورت پڑتی ہے دھرتی ماں کو گلوریفائی کر دیا جاتا ہے، دھرتی ماں تھوک بھی نہیں رہی ہم پر، وہ روٹی نہیں دے رہی، بچے کو دودھہ نہیں دے رہی، مگر کیا ہے؟ دھرتی ماں۔ فوجی کھاد کی، سیمنٹ کی فیکڑیاں چلا رہے ہیں ہاوسنگ سوسائٹیز بنانے میں مصروف ہیں، جبکہ انکے کرنے کا کام لیا جاتا ہے دھرتی ماں کے عام سپتروں سے، کبھی جرگے کے نام پہ کبھی لشکر کے نام پہ، البدر الشمس کے نام پہ، کشمیر میں مروانے کے لئیے عام پاکستانی کو آگے کیا جاتا ہے، افغان جنگ میں مروانے کے لئے عام پاکستانی کو آگے کیا جاتا ہے، گاوں دیہاتوں میں قبائلی علاقوں میں عام لوگوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر لشکر بنا دئیے جاتے ہیں کہ طالبان سے اپنی حفاظت تم خود کرو ہم تو زرا فوجی فرٹیلائزر بنانے میں مصروف ہیں تاکے تمہاری جڑوں میں ڈال سکیں اور تم ہمارے لئیے ہرے بھرے بچے وافر مقدار میں پیدا کر سکو۔

پھر کام شروع ہوتا ہے ملا کا، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہود و ہنود صدیوں سے ہم مسلمانوں کے خلاف سازش کر رہے ہیں ہمیں انکی ہر سازش کو ناکام بنا کر امت مسلمہ اور دین کو بچانا ہے، دین نام ہے قرآن و سنت کا، دونوں چیزیں محفوظ ہیں اللہ کے کرم سے، پھر یہ ہر بار دین خطرے میں کیسے آجاتا ہے؟ جنگ میں مالِ غنیمت جنگ ختم ہونے کے بعد آتا ہے، مگر یہ کونسا جہاد ہوتا ہے جس میں مالِ غنیمت پہلے آجاتا ہے اور جہاد بعد میں شروع ہوتا ہے، پراڈو ڈالر اور ریال پہلے آجاتے ہیں جہاد بعد میں شروع ہوتا ہے، اسے کہتے ہیں پری پیڈ جہاد۔

بات چلی تھی امتِ مسلمہ سے، بڑے سے بڑا پھنے خاں دے اس بات کا جواب کہ کب اور کونسے زمانے میں اس لفظ کا کوئی عملی وجود رہا ہے؟؟؟ اب زرا وہ سچ بھی سئنیے جو سماعتوں میں بظاہر تو زہر گھولے گا مگر سچ یہ ہے کہ راست کی چاشنی اس ہی میں ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ابھی ابھی وصال ہوا ہے جنازہ رکھا ہوا ہے تدفین تک نہیں ہوئی ہے اور امت مسلمہ آپس میں جھگڑ رہی ہے کہ خلیفہ کون بنے گا؟؟؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ جو کے خلیفہِ وقت ہیں انکو انکے گھر میں گھس کر شہید کر دیا جاتا ہے انکا لاشہ تین دن تک سر عام بازار میں پڑا رہتا ہے مگر امت مسلمہ سلمانی ٹوپی پہنے ہوئے ہے کہیں نظر نہیں آرہی، کچھہ لوگ ہمت کر کے رات کے اندھیرے میں انکو دفناتے ہیں اور قبر کے آثار تک مٹا دیتے ہیں کہ کہیں امت مسلمہ انکا لاشہ قبر سے نکال کر اسکی بے حرمتی نہ کرے۔

حضرت عثمان کے دور میں ہی کوفے کا گورنر ولید جو کہ شراب و شباب کا دلدادہ ہے شراب کے نشے میں فجر کی نماز کی امامت کرتے ہوئے دو کی بجائے چار فرض پڑھا دیتا ہے، لوگوں کہتے ہیں حضرت آپ نے چار فرض پڑھا دئیے ہیں، ولید فرماتا ہے کم ہے؟؟؟ اور پڑھا دوں؟؟؟ کہاں تھی اس وقت امتِ مسلمہ؟؟؟

پھر مسندِ خلافت ملتا ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو، انکی خلافت کے چار سال اس ہی امتِ مسلمہ کا وجود تلاشتے ہوئے گزر جاتے ہیں، قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہہ کے لئیے آپس میں ہی جنگ و جدال کا بازار گرم ہوجاتا ہے حضرتِ عثمان کی شہادت کے وقت جو امت مسلمہ سلیمانی ٹوپی پہنے ہوئے تھی اب اچانک سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کے خون میں لتھڑا ہوا کرتا لے کر نکل آتی ہے جنگ جمل شروع ہوجاتی ہے، یہ وہ جنگ ہے جسکے بارے کسی عالم سے سوال کرلو تو کہتے ہیں خاموش رہو، کیوں خاموش رہیں بھئی؟؟؟ بتاو نسلوں کو کہ امت مسلمہ نام کی کوئی شہ کبھی پائی ہی نہیں جاتی تھی اس دنیا میں نہ پہلے کبھی اور نہ آج، نام نہاد امت مسلمہ آپس میں دست و گریباں ہے، ایک فوج کی سربراہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرما رہے ہیں اور دوسری فوج کی سربراہی اماں آئشہ فرما رہی ہیں، اماں آئشہ فوجی جرنیل بھی رہی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ آج مولوی ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کا غیر ضروری گھر سے باہر نکلنا ہی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ امت مسلمہ آپس میں برسرِ پیکار ہے اور اس جنگ میں آپس میں ہی ہزاروں لاکھوں مسلمان اب سمجھہ نہیں آرہا شہید لکھوں یا ہلاک؟؟؟ خیر جو بھی کچھہ ہے وہ ہو جاتے ہیں، اب ڈھونڈئیے کہاں ہے امت مسلمہ؟؟؟ خلافت کے ادوار کو بہت گلوریفائی کیا جاتا ہے تو دور خلافت میں یہ حال تھا اس نام نہاد امت مسلمہ کا۔

اوپر دئیے گئے تمام واقعات اور واقعہ کربلا تک بھی اچھے خاصے جلیل القدر صاحبہ رضی اللہ عنہہ بہ قیدِ حیات تھے اور یہ سب واقعات انکے دور میں انکی موجودگی میں ہوئے ہیں، پھر آجاتا ہے واقعہ کربلا، نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کس بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے، یہ یہود و ہنود نے کیا تھا سب؟؟؟ جی نہیں یہ سب اس ہی نام نہاد امت مسلمہ کے کارنامے ہیں، اسکے بعد لمبی داستان ہے اس نام نہاد امت مسلمہ کی بنو امیہ کی حکومت کے تین سو سال ہیں بنو عباس کی حکومت کے تقریباً نوے سال ہیں اور خون خرابہ ہی خون خرابہ ہے ایک دوسرے کی قبریں کھود کر مردے نکال کر چوراہوں پر ٹانگے جاتے رہے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہہ کعبہ شریف میں پناہ لیتے ہیں تو حجاج بن یوسف انہیں وہاں بھی جا لیتا ہے کعبے پر منجنیق سے حملہ کیا جاتا ہے کعبے کی دیوار شہید کر دی جاتی ہے، یہ سب کس نے کیا؟؟؟ نرندر مودی نے کیا تھا یہ سب؟؟؟ یہ سب اس ہی امت مسلمہ کے کارنامے ہیں جو آج تک بھی ختم نہیں ہوئے، بنو امیہ آج بھی سعودیہ کی صورت میں موجود ہے بنو عباس آج بھی ایران کی صورت میں موجود ہے آج بھی وہ ہی خون کی ہولیاں یں آج بھی آپس کی وہ پرخاشیں اپنے عروج پر ہیں، ملک شام کی رگوں سے ابھی تک خون رس رہا ہے سعودیہ کی خباثت کی وجہ سے آج شامی دنیا بھر میں در بدر ہیں اور کوئی مسلم ملک انہیں لینے کو تیار نہیں ہے، اب کہاں ہے امت مسلمہ؟؟؟ کسی نے آگے بڑھہ کر اگر ان در بدر لوگوں کا ہاتھہ تھامہ بھی ہے تو یہ وہ کفار ہیں جنکو ہمارے مولوی مسجد کے منبر سے گالیاں نکالتے نہیں تھکتے، اس نام نہاد امت مسلمہ سے کہیں اچھی تو امت کفار ہے جس نے اپنے سارے آپسی اختلاف بھلا کر یورپی یونین بنالی اب بغیر ویزہ کے ان اٹھائیس ممالک کے شہری آپس میں ایک گھر کے فرد کی طرح رہتے ہیں، علامہ اِک بال فرماتے رہے، ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئیے، گھنٹہ ایک ہوں، حرم جائیں گے کیسے سعودیہ تو ویزہ ہی نہیں دیتا؟؟؟ اچھوت سمجھتا ہے وہ مسلمانوں کو اور خاص طور پہ پاکستانیوں کو، یہ مثال میں نے ایجاد نہیں کی، پاکستانی کلو حرامی۔ نئی نسل کو سچ سے آگاہی دیجئیے اور اس جھوٹی اور من گھڑت امت مسلمہ کے سحر سے نکالئیے اب بھی اگر نسلوں کو سچ نہ بتایا تو سمجھہ لیجئیے کے ہم نے کچھہ بھی نہیں سیکھا اپنی بد ترین تاریخ سے، یہ نام نہاد امت مسلمہ جسکا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے نہ پہلے کبھی آباد تھی نہ اب ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگی۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s