بیپر


ٹرن ٹرن ٹرن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے شرم نہیں آئی تمہیں بے غیرت
ہیلو کون بول رہا ہے؟؟؟؟؟؟ یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟؟
ابے بے شرم انسان تم نے اپنے بچے کو چھہ سو روپے کا کرتہ پہنا کر
عید کی نماز پڑھنے کے لئیے بھیج دیا، کوئی غیرت شرم ہے تمہیں کہ نہیں؟؟؟
ابے تو ہے کون؟ اور تمہیں اس سے کیا میں اپنے بچے کو چھہ سو کا کرتہ پہناوں یا چھہ ہزار کا تم کون ہوتے ہو یہ پوچھنے والے؟

ابے شرم کر کم از کم پچس ہزار کا کرتہ تو ہونا ہی چاہئیے تھا یہ کیا چھہ سو روپے کا کرتہ پہنا کر بھیج دیا اسے عید کی نماز پڑھنے تجھے کچھہ لحاظ شرم ہے کہ نہیں کنجوس انسان

ابے تو ہے کون آخر اپنا نام تو بتا، اور تو ہوتا کون ہے مجھہ سے یہ سوال کرنے والا، اور کیا چھہ سو روپے کا کرتہ پہن کر عید کی نماز نہیں ہوتی کیا؟؟؟

سوری سوری سوری بھائی جان، بس یہیں تک لانا چاہ رہا تھا میں آپکو، انتہائی معزت کے ساتھہ عرض ہے کہ میری بات کا برا مت منائیے گا، آپ نے ایک لاکھہ کا بکرا خریدا ہے قربانی کے لئیے، کیا پندرہ ہزار کے بکرے
سے قربانی نہیں ہوتی؟؟؟
زرا غور کرو باقی کے پچیاسی ہزار سے تم کتنے لوگوں کے کام آسکتے تھے، جن لوگوں کو تم ایک لاکھہ کے بکرے کا گوشت دوگے وہ محض دو تین دن ہی کھا پائیں گے، اس ہی ایک لاکھہ روپے سے تم سارا سال کتنے ہی لوگوں کو گوشت خرید کر دے سکتے تھے، میری بات کا برا مت منائیے گا، آپ نے درست فرمایا کہ چھہ سو روپے کا کرتہ پہن کر بھی عید کی نماز ہوجاتی ہے، ٹھیک اس ہی طرح پندرہ ہزار کے بکرے سے بھی قربانی ہوجاتی ہے تو پھر یہ نمود و نمائش یہ دکھاوا کیوں؟؟؟
زرا گورنمنٹ کے کسی بھی ہسپتال کا ایک چکر لگائیے آپکو زندگی موت سے موت کی بھیک مانگتی ہوئی نظر آئے گی، کبھی المطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ کا چکر لگائیے اور انکا رجسٹر چیک کیجئیے ہزاروں لوگ اپنی باری کے انتظار میں ہیں کہ کب انکا نمبر آئے گا تو فری میں انکے گردوں کا ڈائلاسسز ہوگا، فری میں ڈائلاسسز کے انتظار میں کتنے ہی مریض اپنی جان ہار جاتے ہیں لیکن انکا نمبر نہیں آ پاتا، ٹرسٹ والے بھی مجبور ہیں فری میں علاج کروانے والوں کی ایک طویل فہرست ہے اور وسائل محدود، آٹھہ سے دس ہزار روپے لگتے ہیں فی مریض اس پروسسز میں، زرا ٹھنڈے دل سے سوچئیے اگر آپ پندرہ ہزار کا بکرا لیتے تو باقی کے پچیاسی ہزار سے آپ نو دس افراد کے گردوں کا ڈائلاسسز کروا سکتے تھے یوں آپ قربانی کے فرض سے بھی سبکدوش ہوجاتے اور انسانیت کے فرض سے بھی۔

میں ایسے کتنے ہی اسٹوڈنٹس کو جانتا ہوں جو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن تعلیمی اخراجات انکی درسترس میں نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے آئن اسٹائن سڑکوں پر وائپر سے لوگوں کی گاڑیوں کی ونڈ اسکرینیں صاف کرتے ہوئے اپنا مستقبل گرد آلود کر رہے ہیں۔

سردیاں آنے والی ہیں، کبھی سردی کی ٹھٹرتی ہوئی سرد رات میں گرم کمبل سے نکل کر دیکھنا اس سخت ترین سردی میں رات بارہ بچے بارہ سال کا بچہ ابلے ہوئے انڈے بیچ رہا ہوتا ہے یہ منظر دیکھہ کر کیا تمہاری آنکھیں نہیں ابلتیں؟؟؟ اگر نہیں ابلتیں تو پھر جان لو کہ تم انسان ہی نہین ہو محض انسان کی فوٹو کاپی ہو۔

میں یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی ساری خوشیاں تیاگ دو، اور اپنا سب کچھہ ایسے مستحقین میں بانٹ دو، تمہارے ایسا کرنے سے بھی پورے ملک کی غربت ختم نہیں ہوجائے گی، سارے مریضوں کو علاج اور سارے بچوں کو تعلیم نہیں مل جائے گی لیکن لیکن لیکن زندگی کے ہنگام کو کچھہ دیر روک کر تنہائی میں بیٹھہ کر کچھہ دیر کے لئیے سوچنا ضرور کہ تم بھی انسان ہو اور وہ مستحقین بھی انسان ہیں دونوں کا خالق ایک ہے، یہ منظر بدل بھی تو سکتا تھا!

ستمگر وقت کا تیور بدل جائے تو کیا ہوگا
میراسر اور تیراپتھر بدل جاے تو کیا ہوگا
امیروں کچھہ نہ دو تعنے تو نہ دو ان فقیروں کو
زرا سوچو اگر منظر بدل جاے تو کیا ہوگا؟؟؟

تمہاری دولت ہی تمہارا امتحان ہے یہ در حقیقت تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دی گئی امانت ہے، اس امانت کو لوگوں تک پہنچا کر تم کوئی احسان نہیں کرو گے، انکی مدد کر کے در حقیقت تم اپنی مدد کرو گے، انکی مدد کرو اور ان سے شکریہ لینے کے بجائے انکا شکریہ ادا کرو کے وہ تمہاری بخشش کا سامان بنے انہوں نے تمہیں موقع دیا کہ تم انکی دنیا بدل کر اپنی آخرت سنوار سکو، یہ ممکن ہی نہیں کہ تخلیق کو تکلیف دے کر خالق کو خوش کیا جاسکے۔

تم نے درست کہا تھا کہ کیا چھہ سو روپے کے کرتے میں عید کی نماز نہیں ہوتی؟ بلکل ہوجاتی ہے، ٹھیک اس یہ طرح پندرہ ہزار کے بکرے سے بھی قربانی ہوجاتی ہے، یہ ایک لاکھہ کا بکرا قربانی سے زیادہ نفسِ عمارہ کی تسکین کا باعث بنتا ہے، علامہ اقبال نے کہا تھا

شیر و اژدھا و نینہنگ کو مارا تو کیا مارا
بڑے موزی کو مارا نفس عمارہ کو اگر مارا

ہمارے نبی پاک ﷺ نے تو ہمیں یہ ہی بتایا ہے کہ ایک وقت کو اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کر دے گا لیکن بندوں کے حقوق وہ کسی صورت بھی معاف نہیں کرے گا۔ اسلئیے میرے بھائی میری بات کا برا مت ماننا، ہو سکے تو حقوق اللہ کے ساتھہ حقوق العباد کو بھی جوڑ کر چلو انشاءاللہ مرا ایمان ہے کہ منزل خود تمہیں ڈھونڈتی ہوئی تمہارے قدموں میں آگرے گی۔

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s