غریب کے بچوں کو جہاد کی تلقین کرنے والوں کی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں ؟

پاکستان کے معصوم اور بدقسمتی سے کم علم رکھنے والے پاکستانیوں کو جس طرح اس نام نہاد جہاد کے لئیے استعمال کیا گیا اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں.
زرا ملاحظہ کیجئیے ان درندوں کی درندگی کہ غریبوں کو جہاد کا درس دینے والے دنیاوی تعلیم کو کفر قرار دینے والے لڑکیوں کے اسکول تباہ کرنے والوں کے ان حمایتیوں نے دولت اور اقتدار کی خاطر غریب کے بچوں کو تو خود کش بمبار بنا دیا جہاد کے نام پہ مروا دیا مگر انکی اپنی اولادوں کو اس نام نہاد پری پیڈ ( پری پیڈ اسلئیے کہا کے جنگ میں تو مال غنیمت جنگ ختم ھونے کہ بعد آتا ھے مگر یہ کیسا پری پیڈ جہاد ھے جس میں مال غنیمت یعنی ڈالر، ہتھیار، لینڈ کروزر، پراڈو، اور بے انتہا دولت پہلے ہی آجاتی ھے) جہاد کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا، ملاحضہ کیجئیے انکی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں، انکے ایک بیٹے اسد محمود خیر المدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ھوا ہے، دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی نہ فدائی بنا نہ ہی کسی نے افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نہ ہی کشمیر میں ہنود کے خلاف جہاد کا حصہ بنا۔ مولانا سمیع الحق یہ بھی غریبوں کے بچوں کو نام نہاد جہاد میں مروانے میں پیش پیش رہے ہیں اور ابھی تک ہیں، مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں، ایک بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ھے، ایک بیٹے کا نام مولانا حامد الحق حقانی ھے جو جامعہ حقانی سے تعلیم کے حصول کے ساتھھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں، گذ شتہ اسمبلی میں ایم ایم اے کے ٹکٹ سے منتخب ھوئے اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے، دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین ہیں اور حافظ قرآن ہیں یہ ماہنامہ الحق کے مدیر ہونے کے ساتھھ ساتھاپنے اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، یعنی ہر طرف سے مال بنا رہے ہیں مگر جہاد کے لئیے غریب کے بچوں کو بھیجتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق کی دوسری بیوی سے بھی دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں مگر وہ ابھی کمسن ہیں مگر انہیں بھی جہاد پہ بھیجنے کا مولانا کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ جہاد اور امریکہ دشمنی کے بظاہر ایک اور علمبردار صاحبزادہ فضل کریم ہیں انکے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات، ایم بی اے، اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ھے اور اپنا بزنس رن کر رہے ہیں، دوسرے بیٹے حسن رضا لاہور کے ایک کالچ میں زیر تعلیم ہیں، تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھھ ساتھھ جی سی یونیورسٹی سے دنیاوی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں، جبکہ چھوتھے بیٹے محمد محسن رضا کالچ سے دنیاوی تعلیم لینے میں مصروف ہیں، مولانا سمیع الحق صاحب کی کوئی اولاد بھی جہاد میں حصے دار نہیں ہے۔
دنیا جانتی ھے کہ ہمارے اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی اس جماعت نے آج تک ہزاروں معصوم غریب بچوں کو لوگ اس نام نہاد جہاد میں جھونک دیا اس جماعت کے امیر منور حسن صاحب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے والد ہیں انکے دونوں بچے کراچی میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں بیٹی کی شادی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی ھے اور انکا بیٹا طلحہ کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز کی ڈگری لئیے ہوے ھے اور اس وقت آئ ٹی اور پراپرٹی کے کاروبار میں مگن ھے مگر جہاد کیا ھوتا ھے میدان جنگ کسے کہتے ہیں اسکا دور کا بھی واسطہ نہیں ان سب سے۔
اس ہی جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد جو کے سب سے بڑے زمے دار ہیں ہمارے معاشرے میں یہ جہاد کے نام پہ فساد پھیلانے میں سب سے زیادہ بچے اس ہی شحص نے مروائے ہیں انکے اپنے بچے کیا کر رہے ہیں ملاحضہ کیجئیے، انکے بڑے صاحبزادے آصف لقمان قاضی ہیں جو کے امریکہ ( کفر کی علامت ) سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے ساتھھ ساتھھ اپنے بزنس میں مصروف ہیں، جبکہ دوسرے بیٹے ڈاکڑ انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں۔ایک اور صاحب ہیں پروفیسر ساجد میر، انکے بھی دو بیٹے ہیں ایک بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میڑک کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا بزنس چلا رہے ہیں، دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیر یونیورسٹی لاہور سے ام سی ایس کیا ھے اور اس وقت کینڈا کی ایک کمپنی سے وابسطہ ہیں۔باقی بچے وہ فوجی جرنیل جنھوں نے بورے بھر بھر کے امریکہ سے ڈالر لئیے ہیں اس پری پیڈ جہاد کے لئیے تو ان میں سے بھی کسی ایک کی بھی اولاد نے اس جہاد میں عملی حصہ نہیں لیا سب کی اولادیں بیرون ملک پڑھی ہیں اور کتنے تو وہیں سیٹلڈ ھوگئیے ہیں، حمید گل نے ٹی پر خود اقرار کیا تھا کے امریکہ سے ڈالر آتے تھے اور جو ملا جتنے بچے لاتا تھا جہاد کے لئیے ہم اسے فی بچے کے حساب سے ڈالر دیا کرتے تھے۔ تو یہ ہیں ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما جنکا کردار واضع ھے کہ دولت کی خاطر کیسے انہوں نے غریب کے بچوں کو مروایا اور اپنے بچوں کو بیرون ملکوں میں اعلی سے اعلی تعلیم دلوائی کاش انکا بھی احتساب ھو اور انکو بھی اس ہی طرح سر عام لٹکایا جائے جسطرح غریب کے بچے جہاد کے نام پر مار دئیے گئے۔

1 تبصرہ

غریب کے بچوں کو جہاد کی تلقین کرنے والوں کی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں ؟

پاکستان کے معصوم اور بدقسمتی سے کم علم رکھنے والے پاکستانیوں کو جس طرح اس نام نہاد جہاد کے لئیے استعمال کیا گیا اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں.
زرا ملاحظہ کیجئیے ان درندوں کی درندگی کہ غریبوں کو جہاد کا درس دینے والے دنیاوی تعلیم کو کفر قرار دینے والے لڑکیوں کے اسکول تباہ کرنے والوں کے ان حمایتیوں نے دولت اور اقتدار کی خاطر غریب کے بچوں کو تو خود کش بمبار بنا دیا جہاد کے نام پہ مروا دیا مگر انکی اپنی اولادوں کو اس نام نہاد پری پیڈ ( پری پیڈ اسلئیے کہا کے جنگ میں تو مال غنیمت جنگ ختم ھونے کہ بعد آتا ھے مگر یہ کیسا پری پیڈ جہاد ھے جس میں مال غنیمت یعنی ڈالر، ہتھیار، لینڈ کروزر، پراڈو، اور بے انتہا دولت پہلے ہی آجاتی ھے) جہاد کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا، ملاحضہ کیجئیے انکی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں، انکے ایک بیٹے اسد محمود خیر المدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ھوا ہے، دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی نہ فدائی بنا نہ ہی کسی نے افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نہ ہی کشمیر میں ہنود کے خلاف جہاد کا حصہ بنا۔ مولانا سمیع الحق یہ بھی غریبوں کے بچوں کو نام نہاد جہاد میں مروانے میں پیش پیش رہے ہیں اور ابھی تک ہیں، مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں، ایک بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ھے، ایک بیٹے کا نام مولانا حامد الحق حقانی ھے جو جامعہ حقانی سے تعلیم کے حصول کے ساتھھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں، گذ شتہ اسمبلی میں ایم ایم اے کے ٹکٹ سے منتخب ھوئے اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے، دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین ہیں اور حافظ قرآن ہیں یہ ماہنامہ الحق کے مدیر ہونے کے ساتھھ ساتھاپنے اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، یعنی ہر طرف سے مال بنا رہے ہیں مگر جہاد کے لئیے غریب کے بچوں کو بھیجتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق کی دوسری بیوی سے بھی دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں مگر وہ ابھی کمسن ہیں مگر انہیں بھی جہاد پہ بھیجنے کا مولانا کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ جہاد اور امریکہ دشمنی کے بظاہر ایک اور علمبردار صاحبزادہ فضل کریم ہیں انکے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات، ایم بی اے، اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ھے اور اپنا بزنس رن کر رہے ہیں، دوسرے بیٹے حسن رضا لاہور کے ایک کالچ میں زیر تعلیم ہیں، تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھھ ساتھھ جی سی یونیورسٹی سے دنیاوی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں، جبکہ چھوتھے بیٹے محمد محسن رضا کالچ سے دنیاوی تعلیم لینے میں مصروف ہیں، مولانا سمیع الحق صاحب کی کوئی اولاد بھی جہاد میں حصے دار نہیں ہے۔
دنیا جانتی ھے کہ ہمارے اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی اس جماعت نے آج تک ہزاروں معصوم غریب بچوں کو لوگ اس نام نہاد جہاد میں جھونک دیا اس جماعت کے امیر منور حسن صاحب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے والد ہیں انکے دونوں بچے کراچی میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں بیٹی کی شادی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی ھے اور انکا بیٹا طلحہ کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز کی ڈگری لئیے ہوے ھے اور اس وقت آئ ٹی اور پراپرٹی کے کاروبار میں مگن ھے مگر جہاد کیا ھوتا ھے میدان جنگ کسے کہتے ہیں اسکا دور کا بھی واسطہ نہیں ان سب سے۔
اس ہی جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد جو کے سب سے بڑے زمے دار ہیں ہمارے معاشرے میں یہ جہاد کے نام پہ فساد پھیلانے میں سب سے زیادہ بچے اس ہی شحص نے مروائے ہیں انکے اپنے بچے کیا کر رہے ہیں ملاحضہ کیجئیے، انکے بڑے صاحبزادے آصف لقمان قاضی ہیں جو کے امریکہ ( کفر کی علامت ) سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے ساتھھ ساتھھ اپنے بزنس میں مصروف ہیں، جبکہ دوسرے بیٹے ڈاکڑ انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں۔ایک اور صاحب ہیں پروفیسر ساجد میر، انکے بھی دو بیٹے ہیں ایک بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میڑک کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا بزنس چلا رہے ہیں، دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیر یونیورسٹی لاہور سے ام سی ایس کیا ھے اور اس وقت کینڈا کی ایک کمپنی سے وابسطہ ہیں۔باقی بچے وہ فوجی جرنیل جنھوں نے بورے بھر بھر کے امریکہ سے ڈالر لئیے ہیں اس پری پیڈ جہاد کے لئیے تو ان میں سے بھی کسی ایک کی بھی اولاد نے اس جہاد میں عملی حصہ نہیں لیا سب کی اولادیں بیرون ملک پڑھی ہیں اور کتنے تو وہیں سیٹلڈ ھوگئیے ہیں، حمید گل نے ٹی پر خود اقرار کیا تھا کے امریکہ سے ڈالر آتے تھے اور جو ملا جتنے بچے لاتا تھا جہاد کے لئیے ہم اسے فی بچے کے حساب سے ڈالر دیا کرتے تھے۔ تو یہ ہیں ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما جنکا کردار واضع ھے کہ دولت کی خاطر کیسے انہوں نے غریب کے بچوں کو مروایا اور اپنے بچوں کو بیرون ملکوں میں اعلی سے اعلی تعلیم دلوائی کاش انکا بھی احتساب ھو اور انکو بھی اس ہی طرح سر عام لٹکایا جائے جسطرح غریب کے بچے جہاد کے نام پر مار دئیے گئے۔

تبصرہ کریں

یہ ہے اصل مجاہد جس نے ظالم کے آگے کلمہِ حق بلند کیا ہے۔

http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?310570-Lal-Masjid-Protest-Charter-of-Demand-video

تبصرہ کریں

جماعتِ اسلامی اور طالبان کے اعلانیہ اور خاموش حمایتیوں کو بہت بہت مبارک ہو۔

جماعت اسلامی کو مبارک ہو، اسکے طالبان مجاہدوں نے (پاکستان کے ابھی تک کی اطلاع کے مطابق 126 جن میں تقریباِ 100 معصوم بچے شامل ہیں) امریکی اور اسرئیلی ایجنٹ کتے کی موت مار دئیے جماعت کے لئیے افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کاروائی میں 6 طالبان مجاہد بھی شہید ہوگئیے، بہت بہت مبارک ہو طالبان کے تمام حامیوںکو اس سے زیادہ عظیم کاروائی شاید ہی دنیا میں کوئی اور کرسکتا ہو۔ میں بغیر کسی بغض کے ہر اس پاکستانی سے کہتا ہوں اللہ کے واسطے اپنے فرقے کی وابستگی سے اٹھہ کر آنکھیں کھول کر دیکھو کہ یہ طالبان کیا کر رہے ہیں ہمارے ساتھہ، اور جو لوگ جو مذہبی رہنماء جو سیاسی رہنماء جو مولوی انکے اعلانیہ یا خاموش ہامی ہیں انکو گریبان سے پکڑیں اور سوال کریں کہ کس بنیاد پر تم آدم خورو کی      حمایت کرتے ہو؟ یہ وقت ہے اپنے اپنے فرقے سے بلند ہو کر طالبان کی حیوانیت کا مقابلہ کرنے کا اگر اب بھی میرا کوئی پاکستانی بھائی محض اپنے فرقے کی بنیاد پر طالبان سے دل میں ہمدردی رکھتا ہے تو اسے بہ روز قیامت اللہ کے سامنے جواب دہی کے لئیے تیار رہنا چاہئیے کے وہ کس کے ساتھہ تھا        مارنے والوں کے یا مرنے والوں کے۔

تبصرہ کریں

انسان , اسلام اور آئمہء عظام !

انسان جب پیدا ھوتا ھے تو گھر والے چھوٹے موٹے کپڑے لیئے تیار بیٹھے ھوتے ھیں ،جن میں مؤنث مذکر کا فرق بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ نومولود چند ماہ تک دونوں جنس کی ضرورت پوری کرتا ھے،کبھی بیٹا لگتا ھے تو کبھی بیٹی،، والدہ بھی بیٹے کو پیار کرتے ھوئی بیٹی بنا کر پیار کرتی ھے اور بیٹی کو بیٹا کہہ کر دل خوش کرتی ھے،، پھر بچہ جب ذرا بڑا ھوتا ھے تو اس کے کپڑوں اور جوتوں میں فرق واضح ھونا شروع ھوتا ھے،، کپڑے ھوں یا جوتے ایک مخصوص وقت تک ھوتے ھیں پھر بچہ وہ کپڑے اور جوتے پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ھے،اب وہ کپڑے اور جوتے نشانی کے طور پر تو استعمال ھو سکتے ھیں مگر بچے کا جسم اور قد کاٹھ ان کو قبول نہیں کرتا ، وہ یہ تسلیم کر کےبھی کہ وہ کپڑے اور جوتے اس کے ھیں، انہیں پہن کر چل کر نہیں دکھا سکتا کیونکہ اب وہ اس کے حال کے مطابق نہیں، پھر ایک وقت آتا ھے کہ اس کا اسٹینڈرڈ سائز مکمل ھو جاتا ھے، اب اس کے قد کا بڑھنا رک گیا ھے، اب جوتا یا کپڑا پھٹ سکتا ھے مگر اس کے سائز میں فرق نہیں آتا،، جب بھی لے گا وھی اسٹینڈرڈ سائز اور مخصوص نمبر خریدے گا ! یہی حال دین کا ھے، انسانیت جب اپنے بچپن سے چلی تو اس کی عقلی و سماجی عمر کو دیکھتے ھوئے نبی بھی بھیجے گئے اور شریعتیں بھی بنائی گئیں ،مگر نہ وہ نبی ھمیشہ کے نبی تھے نہ ان کے معجزے ھمیشہ کے معجزے تھے اور نہ وہ شریعتیں دائمی شریعتیں تھیں وہ تکمیل کی منزل کی راہ کے پڑاؤ تھے،، وہ شریعتیں عارضی تھیں، حکم دینے والے کو پتہ تھا کہ وہ ٹرانزٹ دور کی قانون سازی ھے، اس لیئے اس کی حفاظت کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا،، نہ وہ معجزے محفوظ اور نہ اس دور کی کتابیں محفوظ اور نہ شریعتیں محفوظ !! تا آنکہ وہ وقت آ گیا جب انسانیت اپنے بلوغ کو پہنچی اس کی عقل نے جو جولانیاں دکھانی تھیں وہ دکھا بیٹھی، جو سوال پیدا کرنے تھے وہ پیدا کر لیئے اور جو فتنے سوچنے تھے سوچ لیئے ! تب اللہ پاک نے وہ نبی بھیجا جس کی شریعت اور کتاب بھی محفوظ کی اور قبر اور معجزہ بھی محفوظ کر دیا ! جس کی سنت دائمی سنت قرار پائی ،جن کی کتاب انسانیت کے نام اللہ کا آخری خطاب قرار دی گئ اور جس پر لیا گیا عہد،، فائنل ٹیسٹامنٹ قرار پایا ! جو لوگ بھی جو سوال بھی کر رھے ھیں اور جو شبہ اور فتنہ اٹھانا چاہ رھے ھیں یہ باسی کڑھی کا ابال ھے ورنہ ھم جنسوں کے نکاح سے لے کر خدا کے انکار اور دھریت و الحاد تک سب کچھ کیا جا چکا اور اس کا جواب بھی دیا جا چکا،، ھر سوال کا جواب قرآن حکیم نے سوال پڑھ کر پھر اس کا جواب دیا ھے،، اور قوموں کی بربادی کی تاریخ بیان کر کے اس کا انجام بھی دکھا دیا ھے ! اب نہ تو پچھلے رسولوں کی پیروی مشروع ھے اور نہ ھی ان کی شریعت قابلِ عمل ھے ! اب قیامت تک تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے ایک ھی نبی کی سنت اور ان کی ھی شریعت قابلِ عمل ھے ! جس دین کا نام دینِ اسلام جو اپنے عروج اور جوانی کو پہنچ چکا ،، الیوم اکملت لکم دینکم دین کی تکمیل ھے و اتممت علیکم نعمتی ، رسالت کی تکمیل ھے اور رضیت لکم الاسلام دیناً۔۔، اسلام اور اس کے پیروکاروں کے لئے رب کی رضا کا سرٹیفیکیٹ ھے ! یہاں سے دوسرا مسئلہ شروع ھوتا ھے، وھی بچہ جو جب پیدا ھوا تھا تو کامل اور مکمل تھا ،جسمانی اعضاء سارے وھی تھے جو اس کے مرتے دم تک رھیں گے ،ان میں تعداد کے لحاظ سے تو کوئی اضافہ نہیں ھو گا اور اسی کو الیوم اکملت لکم دینکم کہا گیا ھے ،مگر اس جوان کو جب تک کہ وہ جیتا ھے عمر بھر ان ھی اعضاء اور دل و دماغ کے ھزاروں مسائل درپیش ھونگے جس کے لئے ڈاکٹر بھی ضروری ھونگے ،دوائیاں بھی ایجاد ھونی ھیں اور مصلح بھی کچھ صلح کا فریضہ سر انجام دیں گے ، اسی کامل اور مکمل انسان کے لئے عدالتیں پولیس اور وکیل و جج بھی درکار ھونگے ، نئے ضابطے بھی درکا ھونگے ،یہاں سے ائمہ کا کردار شروع ھوتا ھے ، محدثین کا کام شروع ھوتا ھے ،، دین میں یہی کام فقہا اور مجتہد کا ھوتا ھے،سوشیو پولیٹیکل اور سوشیو کلچرل معاملات جن میں اللہ پاک نے تبدیلی کی گنجائش قیامت تک رکھ دی ھے وہ اس گنجائش کو دیکھ کر ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ھیں، خود قرآن حکیم کے بارے میں نبی پاک ﷺکا فرمان موجود ھے کہ اس کے خزانے قیامت تک خالی نہیں ھونگے اور یہ اپنے اندر غوطہ زن عاقل کو کبھی خالی ھاتھ نہیں لوٹائے گا، علماء کبھی اس سے سیر نہیں ھونگے،اسی کا اظہار ھمارے ماضی میں ھوا، امام مالک کے قدموں میں بیٹھ کر علم حاصل کرنے والے امام شافعی نے ان کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے ان کے بالمقابل اپنی فقہ دی اور وقت کی ضرورت کے مطابق دینی لباس کو سائز کے مطابق کیا،، اگرچہ تنگ نظروں اور اندھے مقلدوں کے ھاتھوں عین مسجد کے بیچ سنگسار کر دئیے گئے،اور کثرت سے خون بہہ جانے کی وجہ سے شہادت کا رتبہ پایا، پھر وہ وقت بھی آیا کہ فقہ شافعی کے مقلدین تعداد میں فقہ مالکی پر غلبہ پا گئے، اس کے علاوہ امام ابوحنیفہ نے وقت کے درزی کا کام سنبھالا اور اپنے زمانے کے مسائل کے مطابق حل پیش کیئے، وقت تبدیل ھوا ،سوشیو پولیٹیکل حالات تبدیل ھوئے تو ان کے اپنے شاگردوں نے آگے بڑھ کر اپنے امام کے احترام کے علی الرغم ان کے 90٪ مسائل کو تبدیل کر دیا، کسی سے مسائل میں اختلاف کا مطلب اس کی بے عزتی اور بےحرمتی ھمارے زمانے کے لوگوں کی پست خیالی ھے، جو اندھی تقلید کو ادب و احترام کا درجہ دیتے ھیں،حالانکہ یہ دین کے لیئے سخت نقصان دہ ھے، یہ اسی طرح کا مرض ھے جو دل کا والو پھنس جانے سے پیدا ھوتا ھے،تازہ خون کی فراھمی رک جاتی ھے اور کارڈیک اریسٹ ھو کر بندہ مر جاتا ھے،ذرا ذرا سی بات پہ جو لوگ کہتے ھیں کہ اگر کوئی تبدیلی لانی ھے تو جاؤ پہلے لاؤ ابوحنیفہ کے پائے کا انسان تو ان سے گزارش ھے کہ امام ابو حنیفہ اگر امام ابو یوسف اور امام محمد کو دستیاب نہیں ھوئے تو آج وہ کہاں سے تشریف لائیں گے، اور تشریف لائیں گے تو امام نہیں رھیں گے، جس طرح بقول آپ کے عیسی علیہ السلام واپس آ کر نبی نہیں رھیں گے بلکہ امتی بن جائیں گے، امام کی امامت اپنے زمانے میں ھی چمکتی ھے کیونکہ وہ اپنے زمانے کے ھی ایکسپرٹ ھوتے ھیں،یہ جو ھمارا سورج ھے یہ بس اسی نظام شمسی میں امام اور پھنے خان ھے، ذرا سا یہاں سے ھٹ کر آگے چلا جائے تو کوئی اسے ستارے کے مول بھی نہ پوچھے،یہ ڈیڑھ سال میں جتنی انرجی پیدا کرتا ھے،اس کے آگے وہ سورج بھی ھیں جو صرف ڈیڑھ منٹ میں اتنی انرجی پیدا کرتے ھیں،، جو ذرا جہاں پہ ھے وھیں آفتاب ھے ! پھر کیا خود امام ابو حنیفہ کو اپنے زمانے میں اتفاقِ رائے سے امام چنا گیا تھا؟ ان کے معارض موجود تھے اور ان پر اعتراضات آج بھی موجود ھیں اور بہت سارے معقول بھی ھیں،،امام مالک بھی اسی جرم ِ اجتہاد میں قابلِ تعزیر ٹھہرے،پورے مدینے کی رات بھر کی غلاظت اکٹھی کر کے ان کے بدن اور داڑھی سمیت چہرے پر ملی گئ اور گدھے پر سوار کر کے مدینے میں گھمایا گیا،پہلوانوں سے کھنچھوا کر ان کے شانے نکال دیئے گئے ،، امام احمد کو سرِ دربار روزے کی حالت میں روزانہ سو کوڑے مارے جاتے،ھر دس کوڑے بعد کوڑے مارنے والا بدل جاتا مگر کوڑے کھانے والا وھی ایک ھوتا ،الغرض کہ جو لوگ بھی جس زمانے میں بھی اس عظیم دینی خدمت کا بیڑا اٹھائیں گے وہ یہ بات ذھن میں رکھیں کہ !

ان ھی پتھروں پہ چل کر گر آ سکو تو آؤ !

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ھے!

اس یقین کے ساتھ کہ اللہ جس بندے سے جو اور جتنا کام لینا چاھتا ھے، اس سے پہلے کوئی اسے مار نہیں سکتا اور جو کام اللہ پاک کروا لیتا ھے اسے افراد یا وقت کبھی مار نہیں سکتا، اللہ اس کام کو پالتا ھے اور اسے لے کر چلنے والے لوگ فراھم کر دیتا ھے ! ھمارا سب سے بڑا المیہ وہ چشمے ھیں جو ھم نے اپنے اپنے مسالک اور اکابر کے نام پر چڑھا رکھے ھیں، ھم اپنے اپنے مسلک کے چشمے سے دنیا کو دیکھتے ھیں اور بد قسمتی سے وہ ھمیں ویسی ھی نظر آتی ھے ،جیسی کہ ھم دیکھنا چاھتے ھیں ،کسی کو گرین تو کسی کو لال اور کسی کو پیلی،، کتاب و سنت کا چشمہ کوئی خوش قسمت ھی چڑھاتا ھے، اپنے اکابر کو مافوق الفطرت اور خطا سے مبرا ھستیاں بنا کر پیش کیا جاتا ھے اور شخصیتوں کو کوٹ کوٹ کر دل و دماغ میں گھسایا جاتا ھے،نتیجہ یہ ھے کہ ھم یہ مطالبہ کرتے ھیں کہ اگر فقہی طور پر کوئی تبدیلی لازمی بھی ھے تو اس کے لئے ویسی ھی خطا سے معصوم اور مافوق الفطرت ھستیاں لے کر آؤ، اب ایسی افسانوی شخصیات نہ تو کبھی تھیں اور نہ اب اور نہ کبھی مستقبل میں لائی جا سکتی ھیں، جو بھی اٹھے گا اگر نو باتیں درست کرے گا تو ایک غلط بھی ضرور کرے گا اور اس غلطی کو درست کرنے والا بھی اللہ پیدا کر دے گا،،یہی سابقہ اماموں کی ھسٹری ھے اور اللہ کی سنت بھی اور یہی موجودہ اور آنے والے اماموں کے ساتھ ھو گا،، انسان کی امامت کا فیصلہ ھم عصر نہیں کرتے آنے والا وقت اور مستقبل کی نسلیں کرتی ھیں !!

10625164_10152920419701155_6104465766360169848_n

شائع کردہ از مذہب | تبصرہ کریں

جماعتِ اسلامی کی تازہ جہالت کا جواب

<p style=”font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Lahori Nastaleeq’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Arial, Tahoma; font-size: 18px;”>

<font/>

تبصرہ کریں

آئیے ہم سب ملکر وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دیں

انسان اور جانور میں رشتہ تاریخ کا قدیم ترین اور انتہائی اہم رشتہ ہے، شکاری دور میں یہ جانور انسان کی غذائی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرتا تھا، جب انسان نے زراعتی زندگی اختیار کی تو شکار کے ساتھہ ساتھہ انسان نے جانوروں کو سدھانا اور پالنا بھی شروع کیا لیکن ہر جانور انسان کی خواہش کے مطابق نہ سدھایا جا سکا اور نہ ہو وہ اس سے مانوس ہوا۔

انسانی سوچ بھی کیا چیز ہے کہ وہ جانور جو اس سے مانوس ہوئے اور اسکے پالتو بنے، ان ہی کے ساتھہ حقارت کا سلوک کیا، مثلاً اونٹ، کتا، گائے، بھینس، گدھا، گھوڑا وغیرہ وہ جانور ہیں جنہوں نے مشقت کے کام سے لے کر غذاء کی فراہمی میں مدد دی۔

مگر کتے کی وفاداری کا یہ صلہ ملا کے اسے بطور گالی یاد کیا جاتا ہے، گائے کو سیدھا سادہ سمجھہ کر اسکا مذاق اڑایا جاتا ہے، بھینس کے آگے بین بجانے کا محاورہ اسکی حماقت کے لئیے ہے اور اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی، اسکی کوڑھ مغزی کے لئیے ہے، انسان کو جب کسی دوسرے انسان کو بے وقوف ثابت کرنا ہو تو بے چارے گدھے کو مثال بنا دیا جاتا ہے۔

مگر جن جانوروں نے انسان کی مزحمت کی اور اسکے پالتو نہیں بنے ایسے جانوروں کے لئیے انسان کے دل میں احترام ہے، مثلاً شیر کی بہادری، چیتے کی چالاکی، اور لومڑی کی عیاری وغیرہ، اب اس سوچ اس روئیے کو آپ کیا نام دینگے؟

مغربی دنیا اس معاملے میں مختلف رویہ رکھتی ہے مگر ہم جس خطے میں رہتے ہیں کم از کم یہاں لوگوں کی سوچ کا محور کچھہ اسطرح کے معاملات کے گرد ہی گھومتا ہے، بات صرف جانورں کی حد تک ہوتی تو بھی کسی حد تک قابلِ قبول تھی مگر یہاں انسانوں کے معاملے میں بھی اس ہی طرح کی سوچ پائی جاتی ہے، محاورہ مشہور ہے، غریب کی بیوی سب کی بھابھی ہوتی ہے، ہے کسی میں جرت جو اپنے سیٹھہ کی بیوی کو بھابھی کہہ سکے؟ اسکے لئیے بیگم صاحبہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ہمارے دفتر میں کچھہ دن پہلے ہی ایک فوج سے ریٹائرڈ بریگیڈئیر کو ایڈمنسٹریٹر کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، آفس میں نائب قاصد سے لے کر خود سیٹھہ صاحب تک سب ہی انکو انکے نام کے بجائے بریگیڈئیر صاحب کہہ کر پکارتے ہیں، میں نے ایک روز سب کے سامنے یہ اعتراض کر دیا کہ یہ کیا سوچ ہے کہ ہم انہیں انکے نام کے بجائے انکے ماضی کے عہدے سے پکارتے ہیں، اگر کسی کو نام کے بجائے عہدے سے پکارنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر صرف بریگیڈئیر صاحب ہی کیوں؟ پی اون صاحب کیوں نہیں؟ سوئیپر صاحب کیوں نہیں؟ یہ منصب آپکی نظر میں چھوٹے ہیں محض اسلئیے؟ جواب تو کسی سے کوئی نہ بن پڑا مگر نتیجہ یہ نکلا کے کچھہ لوگوں نے اپنی اصلاح کی اور اب وہ بریگیڈئیر صاحب کے بجائے انہیں انکے نام سے مخاطب کرنے لگے ہیں۔

اس ہی طرح کوئی اختیارات سے بھرپور ادارے کا کوئی افسر اگر خوش قسمتی سے شریف النفس اور زندہ احساس کا انسان نکل آئے تو اسکے لئیے ہم نے ٹچے کی اصطلاح رکھی ہوئی ہے، اور کوئی دو ٹکے کا پولیس افسر زبردستی کا رعب جھاڑے عرفِ عام میں جسے بھرم بازی کہا جاتا ہے تو ایسے افسر کو ہم دبنگ خان کا لقب دے دیتے ہیں اس سے مرعوب بھی ہوجاتے ہیں اور آتے جاتے اسے سلام ٹھوکنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔

پچھلے ارسٹھہ سالوں سے ایک ہی طبقہ ہے جو ہمارا استحصال کرتا چلا آرہا ہے چہرے بدل رہے ہیں لیکن نسل خاندان ایک ہی ہے، مغربی دنیا کے جانوروں کو وہ حقوق حاصل ہیں جو انہوں نے یہاں کبھی انسانوں کو نہیں دئیے، روٹی نہیں دی، تعلیم نہیں دی، روزگار نہیں دیا، علاج نہیں دیا، چلو ان سب چیزوں پر تو پیسے لگتے ہیں، لیکن عزت؟ عزت دینے میں تو پیسے نہٰیں لگتے مگر ان لوگوں نے انہیں مفت میں دی جانے والی چیز عزت تک نہیں دی، پروٹوکول کے نام پر سڑی گرمی میں دو دو گھنٹے جانور بنا کر سگنلز پر کھڑا رکھتے ہیں کہ بادشاہ سلامت کی سواری گزر جائے تک ان جانورں کو گزرنے کی اجازت ملے گی۔

جماعتِ اسلامی سے لیکر فضل الرحمان تک سب کو معلوم ہے کہ اصلاً دین فروش ہیں مگر دین کے نام پر ہر بار ان سے ہی ڈسوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، نواز شریف سے لے کر زرداری تک سب کو معلوم ہے کہ یہ ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں مگر پھر ان ہی کو اپنے گندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے ہیں، جنہیں شمشان گھاٹ لے جانا تھا انہیں اسمبلی میں لے آتے ہیں۔

جب چنگیز خان حملہ آور ہورہا تھا تو حضرت امام تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کو کسی نے آکر خبر دی اس وقت وہ لوگوں کو تبلیغ فرما رہے تھے، سنتے ہی کتابیں وغیرہ سمیٹنا شروع کردیں لوگوں نے دریافت کیا حضرت تبلیغ نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا تبلیغ کا وقت ختم ہوگیا اب عمل کا وقت آگیا ہے ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کا وقت آگیا ہے۔

ایک وہ دین کے رہنما تھے عالم تھے، ایک ہمارے دین کے رہنما ہیں عالم ہیں کہ، نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بجلی کے ناجائز بلوں کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں، ماں کو معلوم ہے کہ بیٹی اپنا جسم بیچ کر پیسے لا رہی ہے لیکن وہ خاموش نہ رہے تو اور کیا کرے؟ جانتی ہے اگر اسے ٹوکا تو گھر کے باقی افراد بھوکے مر جائیں گے، لا قانونیت عروج پر ہے، انصاف کی زندہ مثال یہ ہے کہ جس گلو بٹ کو ساری دنیا نے ٹی وی چیلنز پہ درندگی مچاتے ہوئے دیکھا اس گلو بٹ کو عدالت نے یہ کہہ کر رہا کردیا کہ گلو بٹ کے خلاف کوئی بھی قابلِ قبول شہادت نہ مل سکی، کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں تو جج اندھے ہیں، یہ سب کچھہ اس ہی معاشرے میں ہورہا ہے مگر شاباش ہے ہمارے دین کے نام نہاد رہنماوں کو کہ ایسے وقت میں کوئی وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دینے کے فرائض انجام دے رہا ہے تو کوئی چالیس دن کے چلے پر چلنے کے لئیے لوگوں پر محنت کر رہا ہے، اور امت ہے کہ اب بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا رہنماء بنائے اندھی تقلید کئیے ہوئے انکے ہی پیچھے چل رہی ہے۔

اس پورے سیاسی اور مذہبی سسٹم سے صرف دو لوگ ایسے نکلے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھہ کر ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرت کی، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادی صاحب کو میرا دونوں ہاتھوں سے سلام ہے، اور انکے ساتھہ پچھلے ڈیڑھہ مہینے سے ہر طرح کی مصیبتیں سہنے والے ان لوگوں کی عظمت کو سلام ہے جو میرے اور آپ کے حقوق کے لئیے اپنا سب کچھہ چھوڑ کر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں، جنہوں نے اپنا تن من دھن ہمارے سکون پر قربان کر دیا، ہم سے بڑا بے غیرت شاید ہی اس دنیا میں کسی ماں نے جنہ ہو جو ایسے نظریاتی لوگوں کے بارے میں بھی بکواس کرنے سے نہیں چوک رہے، فتح شکت تو مقدر سے ہے ولے اے میر۔ مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے اس چڑیا کی طرح اپنا حق ادا کر دیا جو آتش نمرود بجانے کے لئیے اپنی چونچ میں پانی لے کر جارہی تو کسی نے پوچھا تیری اس جونچ کے پانی سے کیا یہ آگ بجھہ جائے گی؟ چڑیا نے کہا بھلے نہ بجھے مگر جو میرے بس میں ہے میں اتنا تو کر ہی سکتی ہوں نہ، تو ان دونوں شخصیات نے اور انکا ساتھہ دینے والوں نے تو اپنا حق ادا کار دیا مگر افسوس کے لوگوں کی اکثریت آج بھی عمران خان میں اپنی قومیت اور ڈاکٹر صاحب میں اپنا مسلک ڈھونڈھنے میں لگی ہوئی ہے لعنت ہے لعنت ہے لعنت ہے ایسی سوچ پر اور ایسی قوم پر، میرا عمران خان اور ڈاکٹر صاحب کو مشورہ ہے کہ ان جانوروں کو انکے حال پر چھوڑ کر اس ملک سے کہیں دور چلے جائیں کہ یہ قوم سیاسی طور پر نواز شریف، زرداری، اور دینی طور پر ایسے ہی نام نہاد رہنماوں کی مستحق ہے جو ظالم حکمراں کے سامنے حق کی ازان دینے کے بجائے وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

4 تبصرے

چل اڑ جا رہے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ

صرف مردے اور مردود ہی اپنی رائے نہیں بدلتے، میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کے زندگی گزارنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ میٹر ٹو میٹر ڈیل کیا جائے، کوئی بھی انسان نہ مکمل طور پر برا ہوتا ہے نہ مکمل طور پر اچھا، اسلئیے ہی ہمارے اسلاف نے تعلیم دی ہے کہ برے سے نہیں برائی سے نفرت کرو، طاہر القادری صاحب کے انقلاب کے حوالے سے میری رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس معاملے میں، میں ہمیشہ انکا حامی رہا ہوں، عمران خان صاحب نے جب طالبان کی حمایت کی اس وقت میں انکا بہت بڑا ناقد رہا، لیکن آج جس استقامت کے ساتھہ عمران خان اور طاہر القادری صاحب کھڑے ہوئے ہیں اور ڈٹے ہوئے ہیں اپنے اپنے موقف پر اسکی تعریف نہ کرنا بے انتہا زیادتی ہوگی، اس میں کیا شک ہے کہ جو مطالبات یہ دونوں حضرات لے کر اٹھے ہیں وہ پاکستان میں بسنے والے ہر انسان کے دل کی آواز ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم ابھی تک بھی اپنی اپنی جماعت کے سربراہان کے اِزن کے منتظر ہیں، قائد کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا۔

کوئی اپنے قائد کے اشارے کا منتظر ہے تو کوئی اپنے امیر کے اشارے کا تو کوئی اپنے فرقے کے عالم کے اشارے کا، سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اشارے کی تو قوی امید ہے مگر جو حضرات اپنے فرقے کا علماء حضرات کے اشارے کے منتظر ہیں امید نہیں یقین ہے کہ وہ منتظر ہی رہ جائیں گے، کیونکہ آج تک بھی ہمارے اندر یہ شعور بیدار نہیں ہو سکا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے، یہ بہت ہی ظرف کی بات ہوتی ہے بہت شعور چاہئیے ہوتا ہے اسکے لئیے مگر جو لوگ نماز تک یہ دیکھہ کر پڑھتے ہوں کے مولوی اپنے فرقے کا ہے یا نہیں وہ لوگ اسطرح کے معاملات میں کیسے ظرف کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟

میری تحریریں پڑھنے والے بخوبی واقف ہیں کے دین کی تشریحات کے معاملے میں، میں جاوید احمد غامدی صاحب کی تشریحات کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں مولانا طارق جمیل صاحب سے نفرت کرتا ہوں یا ڈاکٹر صاحب سے نفرت کرتا ہوں، پڑھتا اور سنتا میں ان حضرات کو بھی ہوں اور انکی جو بات قرآن و سنت سے قریب لگتی ہے اسے من و عن اپنے ایمان کا حصہ بھی بناتا ہوں، میں نے مجرمانہ خاموشی کے نام سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں تبلیغی جماعت سے یہ التجا کی تھی کہ صرف ایک بار اپنا سالانہ اجتماع رائےونڈ کے بجائے اسلام آباد میں منعقد کر لیں اور زیادہ کچھہ نہیں تو عام آدمی کے بنیادی حقوق کے مطالبات حکومتِ وقت کے سامنے رکھہ دیں کے انکے پورا ہونے تک ہم یہاں سے نہیں اٹھنے والے، گورنمنٹ کو گٹھنے ٹیکنے ہی پڑتے، طاہرالقادری صاحب اور عمران خان صاحب کے چاہنے والوں کی ملا کے بھی تعداد زیادہ سے زیادہ اس وقت ڈیڑھہ لاکھ سے زیادہ نہ ہوگی جو کہ اسلام آباد میں پوری استقامت اور حوصلے سے بیٹھے ہوئے ہیں، ان سب کی عظمت کو میرا سلام ہے، اندازہ کریں جب یہ محض ڈیڑھہ لاکھہ لوگ حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں تو پچاس لاکھہ لوگ کیا کچھہ نہیں کر سکتے تھے؟

تبلیغی جماعت والے کیونکہ مذہبی لوگ ہیں اسلئیے انکے بارے میں میرا یہ یقین تھا کہ یہ لوگ کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے اور کم از کم آئین کے مطابق جو عام پاکستانی کے حقوق ہیں وہ لے کر ہی اٹھیں گے، عمران خان اور ڈاکٹر صاحب کیونکہ سیاسی لوگ ہیں انکے بارے میں پھر بھی کسی ڈیل وغیرہ کا گمان کیا جاسکتا تھا، لیکن ابھی تک کا عزم اور استقامت دیکھہ کر یقین کرنے کو دل کرتا ہے کہ یہ لوگ اب پیچھے ہٹنے والے نہیں، میر درد نے کہا تھا، کوچہِ یار چھٹا ہے نہ چھٹے کا کبھی، اب تو یہیں خاک میں مل کے دکھانا ہے ہمکو۔

میں تو پوری طرح سے کنوینس ہوں کہ نواز حکومت کا جانا ٹھر چکا ہے، نواز حکومت کی سیاسی موت ہوچکی ہے زرداری صاحب حکومت کے استحکام کے لئیے مصروفِ عمل نہیں ہیں وہ تدفین و تکفین کے عمل کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے مشن پر ہیں، کہاں دفنانا ہےِ؟ کیسے دفنانا ہے؟ دفنانا بھی ہے کہ جلانا ہے؟ حاضری کا کھانا کون دے گا؟ سوئم کب ہونا ہے وغیرہ وغیرہ۔

امریکہ سے اپنے حق میں پیغام دلوا لیا، برطانیہ سے اپنے حق میں پیغام دلوا لیا، دلیل والوں کے بجائے غلیل والوں کے تلوے بھی چاٹ لئیے، وہ ایم کیو ایم جسکے بارے میں لندن اے پی سی میں نواز شریف صاحب نے سب کے ساتھہ مل کر اعلان کیا تھا کے انکے ساتھہ نہ کوئی بات کرے جا نہ کوئی اتحاد کرے گا ان سے بھی منتیں کروا کر دیکھہ لیا، نواز شریف کی آخری امید زرداری صاحب تھے، یہ وہ ہی زرداری صاحب ہیں جنھوں نے نواز شریف کے بھائی عباس شریف کے انتقال پر تعزیت کے لئیے جاتی عمرا آنے کی خواہش ظاہر کی تو نواز شریف نے یہ کہہ کر منع کر دیا کے آپ مت آئیے گا آپ کے آنے سے ہمارے ووٹ بینک پر فرق پڑے گا، یہ وہ ہی زرداری صاحب ہیں جنکے لئیے پیٹ بھر بھر کر دونوں بھائیوں نے گالیاں دیں، پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالیں گے، سڑکوں پر گھسیٹیں گے، الٹا ٹانگ دیں گے، آج ان ہی زرداری صاحب کی تواضع ستر قسم کے اعلیٰ اقسام کے کھانوں سے کی گئی جس میں ہرن کے گوشت کے کباب بھی شامل تھے، وہ ہرن جسکے شکار پر پاکستان میں پابندی ہے، زرداری صاحب محض آدھے گھنٹے میاں صاحبان کے مہمان رہے اس ہی آدھے گھنٹے میں کھانا بھی کھایا گیا، اندازہ کر سکتے ہیں کے اتنے مختصر سے وقت میں زرداری صاحب نے کیا مشورہ دیا ہوگا میاں صاحب کو، میاں صاحب تو سوچتے ہیں پیٹ سے ہیں کیونکہ انکا پیٹ ہمیشہ بھوک سے بھرا رہتا ہے، لیکن زرداری صاحب کا معاملا مختلف ہے وقت نے ثابت کیا کہ نواز شریف زرداری صاحب کے آگے طفلِ مکتب ہیں زرداری صاحب اپنی عیاری سے مکاری سے چلاکی سے جو بھی نام دے دیں مگر وہ بھر پور کامیابی کے ساتھہ پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ نواز شریف ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے سوا سال میں ہی آپے سے باہر ہوگئے، زرداری صاحب نواز شریف کی آخری امید تھے سو وہ بھی ہری جھنڈی کھا کر چلے گئے۔

ابھی تک یہ معاملا خون خرابے تک صرف اسلئیے نہیں گیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کو محبت سے یا دھمکا کر روک رکھا ہے، اگر معاملہ صرف نواز شریف کی دانائی پر چھوڑ دیا جاتا تو اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں لاشیں گر چکی ہوتیں، نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ یہ ہر معاملے کو بند ذہن اور کھلی تجوری سے حل کرنا چاہتے ہیں، انکے نزدیک ساری دنیا بکاو ہے انہوں نے عمران خان اور طاہرالقادری صاحب کو بھی افتخار چوھدری سمجھہ لیا، لیکن ان دونوں حضرات کی ایمانداری اور استقامت کے آگے نواز شریف صاحب کی تجوری چھوٹی پڑ گئی، میری کمپنی کے مالکان خود پنجابی ہیں اور ایک زمانے میں نواز شریف کا بہت ساتھہ بھی دیا ہے، کل ہی میرے ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا بڑا گدھا ہے کہ اسے میں اپنے آفس میں پی اون کی نوکری پر بھی نہ رکھوں۔

گھنٹی بچ چکی ہے، آسمان پر لکھا نظر آرہا ہے کہ نواز شریف کو اب جانا ہی ہوگا، قفس کو لے کر اڑنا پڑ رہا ہے، مجھہ کو یہ سودا مہنگا پڑ رہا ہے۔ میری ہر اِک مسافت رائگاں تھی۔ مجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے۔ آخری شعر زرداری نواز ملاقات کے تناظر میں، میں کن لوگوں سے ملنا چاہتا تھا؟ یہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے؟ نواز شریف صاحب کو خود بھی ادراک ہوچکا ہے کہ اب انہیں جانا ہی ہوگا انکے نزدیک اب معاملہ محض استعفیٰ کا نہیں ہے، ماڈل ٹاون میں جو ان دونوں بھائیوں نے درندگی مچائی ہے اپنے تئیں تو ان دونوں بھائیوں نے سو سے زائد لوگوں کی جان لینا چاہی تھی مگر اللہ کو ان میں سے نوے کی زندگی قبول تھی اسلئیے نوے لوگ انکے ملازموں کی گولیاں کھا کر بھی بچ گئے چودہ لوگ شہید ہوگئے، ان شہدا کی لاشیں گرانے کے بدلے میں جو ایف آئی آر کٹنی ہے اب معاملہ اس ایف آئی آر سے بچنے کا ہے، استعفیٰ تو اب انکے بڑے بھی دینگے خوف تو اب چودہ شہدا کے خون سے آرہا ہے انشاءاللہ یہ قاتل اب بچ نہیں پائیں گے۔

وقت قریب ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نواز شریف کو اسکے حال پر چھوڑ کر دور بیٹھہ کر تماشہ دیکھیں گی اور جس دن بھی معاملہ صرف نواز شریف کی دانائی تک آگیا وہ دن آخری دن ہوگا نواز شریف کی حکومت کا بھی اور خود نواز شریف کا بھی، اسکے اپنے اندر اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ یہ اس کرائسیس سے نکل سکے، یہ عمران خان اور طاہرالقادری صاحب کی توقع پہ پورا اترنے کے لئیے بہت محنت کرے گا، اور کوئی نہ کوئی کام ایسا کر گزرے گا جو اسکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، ایک رکشہ چلانے والے کو بھی اتنا شعور ہوتا ہے کہ وہ اپنے رکشے کے پیچھے لکھتا ہے، ہمت ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر، نواز شریف کا شعور ایک رکشہ ڈرائیور سے بھی گیا گزرا ہے کہ اس کے اندر برداشت نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی، اسکی تاریخ ہے کے اس نے اقتدار میں آتے ہیں سب کو اپنا غلام بنانا چاہا، کسی کو مال سے تو کسی کو ڈرا دھمکا کر، اسکی عقل پر ہنسی آتی ہے ننانوے میں جس وقت فوج نے ٹیک اوور کیا تو نواز شریف نے رانا مقبول کو جو کہ اس وقت پنجاب کا آئ جی تھا کو چڑھا کر مشرف کو گرفتار کرنے ائر پورٹ بھیج دیا سونے پہ سہاگہ یہ کے رانا مقبول چلا بھی گیا مشرف کو گرفتار کرنے، یہاں رانا مقبول نے ثابت کیا کہ نواز شریف اکیلا بے وقوف نہیں ہے، نتیجتاَ الٹا فوج نے رانا مقبول کو گرفتار کر لیا، پوری قوم منتظر ہے نواز شریف کے اس قدم کی جو اسکے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل کا کام کرے گا، امید ہے نواز شریف ہماری امیدوں پر پورا اترنے کے لئیے تن من دھن سے محنت کریں گے، آج کسی نیوز چینل پر کسی نے نواز شریف کے لئیے کیا خوب جملہ کہا کہ، لوگ جب کسی سے ملتے ہیں تو رخصت لیتے وقت کہتے ہیں اپنی دعاوں میں مجھے یاد رکھئیے گا لیکن میں نواز شریف سے ملوں گا تو رخصت لیتے وقت کہوں گا اپنے گناہوں میں ہمیں بھی یاد رکھئیے گا۔

شائع کردہ از سیاست | تبصرہ کریں

کیا اسلام عورت کو محکوم کرتا ہے؟

شائع کردہ از مذہب | تبصرہ کریں

بے حسی کی انتہا

جانبدار تو جانبدار غیر جانبدار یہاں تک کے مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے کارکنوں کے ساتھہ جو وحشیانہ سلوک کیا گیا وہ کسی طور بھی با ضمیر انسان کے لئیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا، مگر کچھہ لوگ اب بھی اس بات پر مضر ہیں کہ جو کچھہ ہوا وہ ٹھیک ہوا اور اگر غلط ہوا تو اس میں نواز شریف حکومت کا کوئی ہاتھہ نہیں ہے، نواز حکومت میں شامل تمام لوگ معصوم اور فرشتے ہیں وہ کسی طور بھی اس درندگی کے مرتکب ہو ہی نہیں سکتے۔

بلاگ پر بھانت بھانت کی بولیں بولی جا رہی ہیں، اصل معاملے پر بات کرنے کے بجائے طاہر القادری صاحب کی ذات میں کیڑے نکالے جا رہے ہیں، عقل کے اندھوں یہ کون کہہ رہا ہے کہ طاہر القادری صاحب کو اپنا سیاسی امام مان لو اور انکے پیچھے چل پڑو، آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ نواز لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم وغیرہ جس سے چاہیں اپنی سیاسی وابستگی رکھیں یہ آپکا حق ہے، لیکن غلط تو اگر امامِ کعبہ بھی کریں گے تو انکے خلاف بھی حق بولنا پڑے گا کہ یہ ہی انسانیت کا تقاضہ ہے انسان سے اور یہ ہی دین کا بھی تقاضہ ہے۔

متاثرین سے ہمدردی کرنے کے بجائے الٹا انہیں ہی دہشتگرد ثابت کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو لال مسجد آپریشن پر برہنہ ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے، آج بھی اس ہی بلاگ پر وہ تمام ریکارڈ موجود ہے جس میں انکی جانب سے قرآن اور احادیث پیش کی جاتی تھیں لال مسجد والوں کے حق میں کہ انکے ساتھہ ظلم ہوا ہے وہ نہتے تھے انکے خون سے ہولی کھیلی گئی اور پتہ نہیں کس کس طریقے سے انہیں معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ لال مسجد والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا تو پھر بھی جواز موجود تھا کہ انہوں نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی تھی، جسے چاہتے اٹھا کر لے آتے اور تشدد کرتے، مسجد جیسی جگہ کو اسحلہ خانے میں تبدیل کر کے رکھا ہوا تھا، دوہزار سات میں میرا اسلام آباد آنا ہوا تو میں خاص طور پر لال مسجد گیا ٹیکسی ڈرائیور خاصہ ڈرا ہوا تھا میں نے اسے دور کھڑا رہنے کے لئیے کہا اور اتر کا قریب گیا تو دیکھا کے چہرے پر ماسک چڑھائے ہوئے اسلحہ بردار مسجد کے گیٹ پر اور چھتوں پر چڑھے کسی قلعے کی طرح مسجد کی حفاظت کر رہے تھے کہ جیسے وہ لال مسجد نہیں بعیت المقدس ہو، ایدھی صاحب سے لے کر علماء اکرام اور امام کعبہ تک کو بلوا کر مذاکرات کروائے گئے مگر انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی، پورا میڈیا ایک زبان تھا کے ان ریاست میں ریاست قائم کرنے والوں کے خلاف حکومتِ وقت اقدام کیوں نہیں کر رہی، میں آج بھی مانتا ہوں کے اگر حکومتِ وقت چاہتی ہو اتنا جانی نقصان نہ ہوتا، لوگوں کا خون بہائے بغیر بھی اندر موجود لوگوں کو باہر لایا جاسکتا تھا، مگر حکومت نے آپریشن کیا اور اتنے لوگوں کا خون بہہ گیا، لال مسجد والوں کی تمام دہشتگردی کے باواجود بھی میں آج بھی مانتا ہوں کے انسانیت کے ناطے ان لوگوں کے ساتھہ جو ہوا وہ غلط ہوا، بغیر خون بہائے بھی اس معاملے سے نمٹا جاسکتا تھا۔

ایک سال مذاکرات کے نام پر جو نواز حکومت کی طرف سے ڈرامہ رچایا گیا اور دہشتگرد طالبانوں کو منظم ہونے کے لئیے مزید جو وقت دیا گیا اس دوران دنیا نے دیکھہ لیا کے لال مسجد کے خطیب نے کس طرح اپنے چھپے ہوئے مذموم مقاصد کا کھلے عام اظہار کیا اور کیسے کھل کر طالبان کا ساتھہ دیا ان طالبان کا جنہیں ختم کرنے کے لئیے آج پاک فوج آپریشن کر رہی ہے اور جس آپریشن کو ایک آدھہ جماعت کو چھوڑ کر جنکے نزدیک قاتل دہشتگرد طالبان تو شہید ہیں مگر پاک فوج کا فوجی کتے کی موت مرتا ہے، ایسی ایک آدھہ جماعت کو چھوڑ کر پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس وقت اس آپریشن کی حامی ہیں، وقت نے ثابت کر دیا کہ لال مسجد والے نہ صرف یہ کہ طالبان کے حامی تھے بلکے خود دراصل طالبان ہی تھے موقع ملنے پر کس طرح انہوں نے طالبان کا کھل کر ساتھہ دیا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اب واپس آتے ہیں ماڈل ٹاون واقعے کی طرف، ماڈل ٹاون میں کی گئی درندگی کو سپورٹ کرنے والوں کی اکثریت آج بھی ان لوگوں کی ہی ہے جنہوں نے لال مسجد واقع پر پورے پاکستان میں ادھم مچا کے رکھا، طالبان کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، طالبان کے حق میں بولتے بولتے انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے تھے، اس ہی بلاگ پر کیسی کیسی تاویلیں پیش کر کے انہیں بے گناہ ثابت کرنے کی کوششیں کیں، یہ کیسا رویہ ہے یہ کیسی بیمار سوچ ہے کہ جسٹیفائیڈ دہشتگردوں کو مارا جائے سارا ملک سر پہ اٹھا لیا جاتا ہے انسانیت کی تذلیل نظر آنے لگتی ہے، اور یہ جو بیرئیر ہٹانے کے نام پر سینکڑوں لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں تیرہ افراد کو جان سے مروا دیا گیا اور نا جانے کتنے ہی شدید زخمی ہیں جو موت زندگی کی کشمکش میں ہیں انکا خون، خون نہیں پانی تھا؟ کیا یہ نہیتے پر امن لوگ پاکستانی نہیں تھے؟ کیا یہ مسلمان کا خون نہیں بہایا گیا؟ کیا یہ انسانیت کا خون نہیں ہوا؟ دنیا کے کسی کونے میں بھی مسلمانوں کا نہ حق خون گرتا ہے تو یہ لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں، اگر یہ ہی کام نواز حکومت کی جگہ امریکی حکومت یا اسرئیلی حکومت نے کیا ہوتا ان لوگوں کو اسلام خطرے میں پڑتا نظر آجاتا اور یہ سارا پاکستان سر پر اٹھا لیتے، لیکن اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہر میں نہتے انسانوں کے خون کی اس تذلیل پر مذمت کے دو الفاظ تک انکے منہ سے نہیں نکل رہے، الٹا اس واقع سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئیے طاہر القادری صاحب کی ذات میں کیڑے نکالے جارہے ہیں، کیا وہ لوگ ریلی نکال رہے تھے؟ کیا وہ لوگ دھرنے پر تھے؟ کیا وہ لوگ اسلحہ لے کر اسمبلی پر قبضہ کرنے نکلے تھے؟

وہ جنہوں نے اپنے محلوں کے آگے میلوں تک کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے عام آدمی کے لئیے نو گو ایریا بنایا ہوا ہے وہ لوگ بیرئیر ہٹانے کے بہانے نہتے لوگوں پر شب خون مارتے ہیں اور انکے حمایتی اس حیوانیت کے حق میں دلائل ڈھونڈتے پھر رہے ہیں، اب کہاں گئی انکی انسانیت؟ اب کیوں انہیں کسی مسلمان کا خون گرتا نظر نہیں آرہا؟ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کچھہ لوگ جو کہ اس بلاگ پر اپنی پوسٹ میں اپنے الفاظ کم اور قرآنی آیات زیادہ لکھتے ہیں، احادیثِ مبارکہ سنا سنا کر دین کی حقانیت بیان کرتے ہیں افسوس صد افسوس کے ایسے لوگ حکمرانوں کی اس حیوانیت کو سپورٹ کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ گلو بٹ طاہر القادری صاحب کا ہی آدمی تھا، پھر جعلی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ گلوبٹ طاہر القادری صاحب کا ہی کارکن تھا، اندھے پن کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے یہ تو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنے والی بات ہوگئی دنیا نے دیکھا کہ پولیس کو لیڈ ہی گلو بٹ کر رہا تھا، انکے کارکنوں پر تو پولیس گولیاں برسا رہی تھی عورتوں کے چہروں پر گولیاں ماری گئیں، لاشوں کو گھسیٹا گیا، قرآن کی بے حرمتی کی گئی، یہ پاکستان کی پولیس تھی یا اسرئیل کی پولیس تھی؟ جبکہ گلو بٹ کو گلے لگایا جا رہا تھا، وہ لوگوں کی گاڑیوں کو تباہ کر رہا تھا اور پولیس والے اسے شاباش دے رہے تھے، وہ دکانوں میں ڈکیتی ڈال کر لوٹ کر مشروبات لا رہا تھا اور پولیس والے مزے لے لے کر پی رہے تھے اور کچھہ لوگ یہ ثابت کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں کہ گلو بٹ تو دراصل طاہر القادری صاحب کا ہی آدمی تھا، شاباش ہے بھئی ایسے بے ضمیر لوگوں کی ڈھٹائی پہ۔

آپکی حق ہے کہ آپ اپنے اپنے لیڈر اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے جائز مطالبات کی حمایت کریں پر امن طریقے سے اپنی بات دوسروں تک پہنچائیں، لیکن اپنے لیڈر کی اندھی محبت میں آپ اتنے بھی اندھے نہ ہوجائیں کے انسانیت کے ہی مجرم ٹھر جائیں، اگر آپ قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں تو آپ کا شمار بھی قاتلوں میں ہی کیا جائے گا، ایک بار پھر عرض ہے کہ طاہر القادری صاحب کی ذاتیات میں یقیناً ایک ہزار کیڑے ہونگے ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن حکمرانوں کی یہ حیوانیت یہ درندگی کسی طور بھی جسٹیفائیڈ نہیں ہے، اگر آپ ان مظلوم لوگوں کے لئیے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں بول سکتے تو پھر آپکو حقائق مسخ کر کے قاتلوں کی حمایت کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے، حق گوئی سے خوف آتا ہے تو پھر خاموشی اختیار کر لیں مگر انکے زخموں پر نمک پاشی مت کریں کہ یہ پاکستان ہے یہاں کچھہ بھی ہوسکتا ہے یہ منظر کل بدل بھی سکتا ہے، کل ان نہتے لوگوں کی جگہ آپکے اپنے بال بچے بھی ہوسکتے ہیں، اور کچھہ نہیں تو خدا کا خوف ہی کر لیں کے کس منہ سے اس حیوانیت پر حکمرانوں کا دفاع کر رہے ہیں؟ کہ اللہ کے گھر میں یہ چار سو بیسی نہیں چلنے والی، یہ جعلی تصاویر یہ جعلی ویڈیوز اللہ کے گھر میں نہیں دکھائی جا سکیں گی، بہتر یہ ہی ہے کہ اس واقع کی دل سے مذمت کریں اور قصوروار کو قصوروار مانیں چاہے ہو آپکا من پسند لیڈر ہی کیوں نہ ہو، کہ یہ ہی انسانیت کا ہم سے تقاضہ ہے اور یہ ہی دین کا بھی تقاضہ ہے۔

ستمگر وقت کا طیور بدل جائے تو کیا ہوگا

میرا سر اور تیرا پھتر بدل جائے تو کیا ہوگا

امیروں کچھہ نہ دو تعنے تو نہ دو ان فقیروں کو

زرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا؟

شائع کردہ از ہمارا المیہ | 3 تبصرے