مہذب دنیا میں ہر شخص اپنا کام اپنے ہاتھہ سے ہی کرتا ہے، دفتروں میں بھی افسران اور مالکان اپنے ذاتی کام اپنے ہی ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں۔ وہاں عمومی طور پر لوگ ایک دوسرے کو نام سے پکارتے ہیں برابری کی سطح پر معاملات کئے جاتے ہیں، عزت احترام منصب کے بنیاد پر نہیں کردار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسکے برعکس ہم لوگ زبان سے تو کہتے ہیں لااللہ الہ اللہ مگر قدم قدم پر ہمارے اللہ ہیں، سر جی، صاحب جی، حضور والہ، قبلہ، یہ کیا سوچ ہے؟۔
المیہ یہ کے اس غلامی پسند سوچ کو ہم ادب و احترام کا نام دے دیتے ہیں، کوئی افسر یا مالک اپنے روم سے باہر نکلے تو پی اون پر لازم ہے کو وہ اسے کھڑے ہو کر سلام کرے جتنی بار افسر سامنے سے گزرے گا اسے اٹھک بیٹھک کرنا لازمی ہے ورنہ بیچارا اپنی نوکری سے جاتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کے ادب و احترام کردار کی بنیاد پر ہونے چاہئیے ( بنیادی خونی رشتوں کے لئیے تعلیمات الگ ہیں زیر بحث مضمون کے ساتھہ انہیں نہ ملایا جاے ) نہ کے منصب کی بنیاد پر۔
اسلام تو جانورں تک کے حقوق وضع کرتا ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک کا مفہوم ہے کے، جانورں پر انکی طاقت سے زیادہ بوجھہ مت ڈالو۔ اس ہی طرح غلاموں کے لئیے بھی فرمایا کے جو خود کھاو وہ ہی انہیں بھی کھلاو، جو خود پہنو وہ ہی انہیں بھی پہناو، انکے آرام کا خیال رکھو، جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ملازموں کے ساتھہ جانورں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے، نوئے پرسنٹ مالکان اپنے ملازموں کے ساتھہ اچھوتوں سے بھی بدتر سلوک روا رکھتے ہیں، سارا دن جانورں کے طرح مشقت لینے کے بعد جو مزدوری انہیں دی جاتی ہے اس مزدوری کے عوض مزدور کے گھر میں چولہہ جلا کے نہیں اسکی انہیں فکر نہیں ہوتی، انکے ملازم کے گھر میں بیمار ماں باپ کا علاج ہو پا رہا ہے یا نہیں یہ انکا درد سر ہی نہیں ہوتا، خود بالی کےشوز اور ورساچے کے سوٹ زیب تن کرتے ہیں کبھی انکے اندر یہ سوچ نہیں جاگتی کے انکے ملازم کے بچوں کے تن پر کپڑے بھی ہیں کے نہیں۔
سارا دن جانورں کے طرح مشقت لینے کے بعد جو تنخواہ وہ انہیں دیتے ہیں اس میں آج کی مہنگائی کے دور میں ٹھیک سے انسان پیٹ کا دوزخ نہیں بھر سکتا تو کپڑے اور علاج معالجہ تو بہت دور کی بات ہے، صبح سات بجے بس اسٹاپ پر دیکھہ لیں فیکڑیوں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ہجوم لگے ہوتے ہیں جو بیچاریاں جانے کس مجبوری میں اس زلت آمیز ماہوار کے عوض سارا دن کی مشقت کرتی ہیں، بارہ بارہ گھنٹے ان سے کام لیا جاتا ہے اور بدلے میں آج بھی محض پانچ ہزار ماہوار دیا جاتا ہے، یہ کیا معاشرہ ہے یہ کون لوگ ہیں کیوں رحم نہیں آتا انہیں کیوں ایسے وقت میں اسلام یاد نہیں آتا انہیں؟ اور کہاں مرے ہوئے ہیں وہ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار انہیں یہ سب دیکھہ کر اسلامی تعلیمات یاد کیوں نہیں آتیں؟ عوام کی اس زلت آمیز ہتک پر انکی روحیں کیوں نہیں کانپتیں؟ کیا گناہ ثواب جنت دوزخ حور اس کے آگے اسلامی تعلیمات ختم ہوجاتی ہیں؟ یہ جو جیتے جی لوگ دوزخ جھیلنے پر مجبور ہیں اسکا جواب کون دیگا؟۔
کہنے کو حاجی بھی ہوتے ہیں عمرے بھی لا تعداد کیئے ہوئے ہوتے ہیں مگر عملی زندگی میں درندوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں، دل کانپ جاتا ہے سن کر کے آج بھی پرائیوٹ اسکولوں میں محض دو تین ہزار کے عوض لڑکیوںکوٹیچر رکھا جاتا ہے، جتنی دو بچوں کی فیس ہوتی ہے اتنی ہی ٹیچر کی تنخواہ ہوتی ہے۔ پرئیویٹ کمپنیز میں جعلی یونینز بنائی جاتی ہیں کاغذوں میں مالک خود ہی اپنے کسی چمچے کو یونین لیڈر دکھا دیتا ہے ماہوار مٹنگز بھی دکھا دی جاتی ہیں ساری مراعتیں بھی شو کروائی جاتی ہیں مگر سب صرف کاغذوں میں عملی طور پر کچھہ نہیں دیا جاتا کاغذوں میں میڈیکل، پروویڈنٹ فنڈ، فلاں الاونس ڈھماکہ الاونس سب دکھایا جاتا ہے مگر دیا کچھہ نہیں جاتا۔ کروڑوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے ڈمی کمپنیز بنا کر سارے اخراجات دکھائے جاتے ہیں یہ ساری درندگی ٹیکس بچانے کے لئیے کی جاتی ہے، کوئی ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ٹائپ چمچہ رکھہ لیا جاتا ہے جو انہیں یہ سارے راستے دکھاتا رہتا ہے اسے یہ پیٹ بھر کر دیتے ہیں ساری مراعتیں اس ایک کے نام کر دی جاتی ہیں وہ ایک غاصب سب کا حق کھا کر انہیں سارے راستے دکھاتا رہتا ہے، سب کا حق لے کے بھی محروم دکھائی دیتا ہے۔ اتنا ظالم ہے کے مظلوم دکھائی دیتا ہے۔
اور اسٹاف کو معلوم ہوتا ہے یہ سب لیکن اپنے حق کے لئیے پھر بھی آواز نہیں اٹھاتے، وہ آواز اٹھا ہی نہیں سکتے کیوں کے پینسٹھہ سالوں میں بڑی محنت کے ساتھہ اس پوری قوم کوانقلاب اورینٹڈ سے غلامی اورینٹڈ بنایا گیا ہے، قوم کو غلامی پسند بنانے میں ہر صاحب اختیار کا ہاتھہ ہے چاہے وہ فوج ہو اسٹیبلشمنٹ ہو سیاستدان ہوں ملا مولوی ہو، سب کے سب شامل ہیں اس قوم کو بزدل اور غلامی پسند بنانے میں، ورنہ یہ وہ قوم تھی جو خلیفہ وقت پر انگلی اٹھا دیا کرتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے لوگوں سے پوچھا میں اگر ٹھیک معمالات نہ کروں تو تم کیا کرو گے؟ لوگوں نے تلوار لہرا کر کہا اس سے آپکو سیدھا کر دیں گے۔
یہ تھا مسلمانوں کی سوچ کا معیار اور آج سوال کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے بدتمیزی سمجھی جاتی ہے، اپنے حق کے لئیے بولنے والے کو باغی کہا جاتا ہے۔ سب خوش حال ہیں مولوی ملا خوش حال ہے، سرمایہ دار خوش حال ہے، فوج خوش حال ہے، سیاستدان خوش حال ہے، بدحال ہے تو وہ مزدور جو اس دھرتی کا سینہ چیر کے اس ملک کے لئیے وسائل نکالتا ہے ان سب درندوں کی عیاشی کا سامان پیدا کرتا ہے، المیہ یہ ہے کے یہ قوم خوش بھی اس ہی غلامی میں ہے مطمعین ہیں پورے خلوص کے ساتھہ غلامی کا حق ادا کرتے ہیں، اللہ فرماتا ہے ہم بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتے جسے خود اپنی حالت بدلنے کی فکر نہ ہو۔ نہ یہ قوم اپنے حق کو کبھی سمجھے گی اور نہ ہی کبھی اپنے حق کو لینے کے لئیے باہر آئیگی ایسی قوم کا صحیح مقام سیلانی اور ایدھی کا مفت دسترخوان ہی ہے۔

مفاد کی جنگ

Posted: January 13, 2012 in سیاست

سارے چور ایک بار پھر اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، فوج ایک بار پھر پس پردہ رہ کر اپنا گھناونا کھیل کھیل رہی ہے، عدلیہ معاف کیجئیے گا آذاد عدلیہ جسے چار سال سے سب کچھہ اچھا اچھا نظر آرہا تھا اب اچانک فوج کے ایماء پر وہ خواب خرگوش سے جاگ گئی ہے، فوج اب سامنے آکر وار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی تو اس نے عدلیہ کا کاندھا استعمال کرنا شروع کردیا ہے اب جو کام گزشتہ سالوں میں فوج خود کرتی رہی ہے اب وہ ہی کام وہ عدلیہ کے زریع کروا رہی ہے، ذرداری صاحب جانتے ہیں جانا تو پڑے گا مگر وہ بھی سیاسی شہید بنے بغیر جانے پر راضی نظر نہیں آرہے۔
جس ملک میں بھوک ننگ بے روزگاری خودکشیاں ہو رہی ہوں بجلی نہیں گیس نہیں پینے کا صاف پانی تک مسلہ بنا ہوا ہو اور اس جیسے کتنے ہی بھیانک حقائق ننگا ناچ ناچ رہے ہیں ایسے حالات میں بھی کسی کی توجہ عوام کے مسائل پر نہیں ہے، فکر ہے تو سب کو اپنے اپنے اقتدار کی اپنے اپنے اختیار کی، آنے والے وقتوں میں لوٹا ماری کرنےکے لئیے کس کو  کتنا حصہ ملنا ہے کس کو کتنے اختیارات ملنے ہیں ہر صآحب اختیار صرف اپنے مفاد کی سوچ رہا ہے قوم کی نہ پہلے کسی کو فکر تھی نا آج ہے۔
کسی کو فکر کے پی پی پی سینٹ میں اکثریت نہ لے پائے، کسی کو فکر کے ایم ایم اے بحال ہوجائے تاکے پھر سے اس بے وقوف قوم کو کتاب کو قرآن بتا کر مذہنی جذبات بھڑکا کر اگلے پانچ سالوں کے لئیے مذہب کے نام پر لوٹا ماری کرنے کے لئیے اقتدار اور اختیار مل سکے۔ فوج کو فکر کے ہماری اجارہ داری نہ ختم ہوجائے، کسی کو فکر کے بلدیاتی نظام بحال ہوجائے، کسی کو فکر کے عمران خان کو لانا ہے نظام وہی رہنا ہے صرف چہرے بدلیں گے۔ عدلیہ کو فکر کے بڑے بڑے خواب دکھائے تھے قوم    کو دودھہ و شہد کی نہریں بہانے کے وعدے کئے تھے قوم سے چار سال تو بے وقوف  بنا لیا اب کچھہ کر کے بھی دکھانا پڑے گا ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں گے فوج بھی خوش ہوجائے گی  کے فوج کا کام آسان ہوجائے گا اور قوم بھی مزید بےوقوف بن جائے گی آذاد عدلیہ زندہ باد آذاد عدلیہ زندہ باد کے نعرے لگنے والے ہیں۔
نواز شریف صاحب کو فکر ہے کے یہ حکومت ایسے گرے کے اگلے سیٹ اپ میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو، عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے نواز شریف کی۔ قوم اگلے الیکشن کے لئیے تیار ہے پھر ان ہی لوگوں کو ووٹ ملنے ہیں تبدیلی محض اتنی ہوئی ہے کے ان پرانے لٹیروں میں ایک نئے چہرے کا اضافہ ہوگیا ہے اب اسے بھی حصہ ملے گا۔ اور اگر فرشتے اسے اقتدار میں لے بھی آئے تو وہ صرف اتنا ہی کرے گا جتنا کرنے کی اسے فرشتے اجازت دیں گے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ پاکستان کی تاریخ ہے ہی کے جو لاتا ہے وہ واپس بھیجنا بھی جانتا ہے امید ہے عمران خان صاحب تاریخ کے اس سبق کو یاد رکھیں گے۔
تبدیلی اس ملک میں صرف اس دن ہی آئے گی جس دن سیاستدانوں کی طرح فوجی جرنیلوں کا بھی ایسے ہی احتساب ہوگا جیسے ذرداری صاحب کا کیا جارہا ہے، جیسے حامد کاظمی صاحب کو پابند سلاسل کیا گیا ہے ایسے ہی فوجی جرنیلز کو بھی داخل زنداں کرنا ہوگا، یہ جس دن ہوجائے گا اس دن نیچے والے خود بہ خود اپنا قبلہ درست کرلیں گے۔ مگر یہ کبھی ہوگا نہیں اس ملک میں اسلئیے سب کے حلوے مانڈے ایسے ہی چلتے رہیں گے، جو مثبت تبدیلی کی امید رکھتے ہیں انہیں چاہئیے اپنی شہریت بدل کر کسی کفار ملک کی راہ لیں کیوں کے یہاں تو قاضی حسین احمد اور مولانہ فضل الرحمان کا خود ساختہ اسلام ہی چلنا ہے جس میں کتاب کو قرآن بتا کر لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا کر لوٹا ماری کرنا جائز جانا جاتا ہے۔

پوچھا : کیا پاکستانی کنفیوژ قوم ہے؟
فرمایا : کسی کو فخر ہے کے اسکے اجداد کا تعلق انڈیا سے ہے، کسی کو فخر ہے اسکے اجداد کا تعلق عرب سے ہے، کسی کو افغانستانی اور کسی کو ایرانی ہونے پہ فخر ہے، زندگی کی تمام سہولیات کو سمیٹنے کے لئیے رہنا یورپ امریکہ اور کینڈا میں چاہتے ہیں، مرنے کے بعد دفن مکہ مدینہ میں ہونا چاہتے ہیں تم ہی بتاو ان سب کی ترجیحات میں پاکستان کہاں ہےِ؟۔

پوچھا : اپنے بچپن سے مولوی حضرات سے ایک حدیث سنتا آیا ہوں، علماء کا اختلاف باعث رحمت ہوتا ہے، کچھہ لوگ اسے اسطرح بھی بیان کرتے ہیں، امت کا اختلاف باعث رحمت ہوتا ہے، اسکی کیا حقیقت ہے؟
فرمایا : اس سے زیادہ گھٹیا بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی، اسطرح کی احادیث یہ فرقہ بندی کے موجد گھڑتے ہیں تاکہ فرقوں کے نام پر انکے کاروبار کو دین سے ثابت کیا جاسکے، یہ بلکل من گھڑت اور موضوع حدیث ہے، اسکا تو مطلب یہ ہوا کے اگر علماء یا امت کا اختلاف اللہ کے نزدیک باعث رحمت ہے تو پھر علماء یا امت کا اتفاق باعث زحمت ہوگا؟۔

پوچھا : غریب اور امیر کی نیکیاں یکساں ہوتی ہیں؟
فرمایا : غریب کی نیکیاں امیر کے گناہ ہوتے ہیں، اچھا وہ کیسے؟ اگر ایک غریب آدمی کسی ضرورت مند کو سو روپے دیتا ہے اور امیر آدمی بھی اس ضرورت مند کو سو روپے ہی دیتا ہے تو یہ انصاف نہیں ہوا، یہ غریب کی نیکی اور امیر کے لئیے گناہ کے مترادف ہے۔

پوچھا : وہ کون لوگ ہونگے جو جنت میں بھی اداس رہیں گے؟
فرمایا : جنت کے کئی درجات ہیں جو نچلے درجے میں ہونگے وہ یہ سوچ کر اداس رہیں گے کے کاش اور زیادہ نیکیاں کی ہوتئیں تو جنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا۔

پوچھا : قاضی حسین احمد کی شخصیت میں کوئی پوزیٹو عنصر بھی ہے؟۔
فرمایا : انکی پوری شخصیت میں ایک ہی چیز پوزیٹو ہے اور وہ ہے انکا بلڈ گروپ، او پوزیٹو۔

پوچھا : الطاف حسین اور زرداری کی محبت کا رشتہ اس نہچ پہ پہنچ گیا کیا کہ چوٹ ایک کو لگے تو تکلیف دوسرے کو ہوتی ہے؟۔
فرمایا : سیاست میں محبت نہیں ہوتی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کے دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

پوچھا : پوچھا سب سے زیادہ گرمی عرب میں پڑتی ہے جبکہ یورپ میں تو تقریباً سارا سال ہی موسم سرد رہتا ہے پھر یہ ائیرکنڈیشنڈ ایجاد کرنے کا خیال عرب کے لوگوں کو کیوں نہیں آیا یہ خیال یورپ والوں کو ہی کیوں آیا؟۔
فرمایا : اسکے جواب سے بہت سارے لوگوں کو مرچیں لگ جائیں گی اسلئیے بغیر کہے ہی سمجھہ جاو۔

پوچھا : عمران خان کے لاہور کے جلسے کے بعد عمران خان اور نواز شریف کے گراف کو کیسے دیکھتے ہیںِ؟۔
فرمایا : دونوں ہی اپنے کیرئیر کے عروج پر ہیں دونوں کو ہی دیکھنے والے کی پگڑی زمین پر گر جائے گی فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان کو دیکھنے والے کی پگڑی پیچھے گرے گی اور نواز شریف کو دیکھنے والے کی آگے۔

سوالنامہ

Posted: October 10, 2011 in کچھ ہلکا پھلکا۔۔

پوچھا: میمن برادری کا نام میمن کیسے پڑا؟
فرمایا: گورا یہاں سے جانے کے لئیے نہیں آیا تھا وہ تو حالات ایسے ہوگئے کے جانا اسکی مجبوری بن گیا، گورے نے ہر ہر علاقے کے لوگوں پہ ریسرچ کی تھی اور انکی سائکی کے لحاظ سے ہی وہ انہیں ٹریٹ کرتا تھا یہ ایک گورے کی ہی ریسرچ تھی جسکے بعد اس نے اس قوم کا نام میمن رکھا، معنیٰ کیا ہیں میمن کے؟ میمن انگریزی زبان کا لفظ ہے اسکے معنیٰ ہیں پیسے کو خدا ماننے والے، پیسے کو پوجنے والے، پیسے کو خدا کے برابر درجہ دینے والے۔

پوچھا: ہمارے سیاستدانوں اور نام نہاد مذہبی رہنماوں کی پسندیدہ بک کونسی ہے؟
فرمایا: چیک بک۔

پوچھا: فرقہ اور دکان میں کیا فرق ہےِ؟
فرمایا: دونوں کا کام ہی بیچنا ہے، دکان میں تو پھر بھی چیز ایمان کے ساتھہ بیچی جاسکتی ہے لیکن فرقہ میں صرف ایمان بیچا جاتا ہے۔

پوچھا: مصلحت اور بےغیرتی میں کیا فرق ہے؟
فرمایا: مصلحت جہاں ختم ہوتی ہے وہیں سے بے غیرتی شروع ہوتی ہے۔

پوچھا: سب سے اچھے دوست کو کیسے دیکھتے ہیں؟
فرمایا: میں یہ تو نہیں کہتا کے اسکی دوستی سے زندگی میں سالوں کا اضافہ ہوجاتا ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کے اسکی دوستی سے سالوں میں زندگی کا اضافہ ضرور ہوجاتا ہے۔

پوچھا: یہ ہر اشتہار میں عورت کا وجود کیوں شامل ہوتا ہے؟
فرمایا: جنہیں اعتراض ہے وہ خود جنت کی تشہیر کے لئیے عورت ( حور ) کے محتاج ہیں۔

پوچھا: پاکستان میں اچھا کون ہےِ؟
فرمایا: جو نسبتاَ کم برا ہے، ایماندار کون ہے؟ جو نسبتاَ کم بےایمان ہے، غیرتمند کون ہے؟ جو نسبتاَ کم بےغیرت ہے، مظلوم کون ہے؟ جو نسبتاَ کم ظالم ہے، عالم کون ہےِ؟ جو نسبتاَ کم جاہل ہے، حساس کون ہے؟ جو نسبتاَ کم بےحس ہے، سخی کون ہے؟ جو جتنا بڑا لٹیرا ہے وہ اتنا ہی بڑا سخی ہے۔

اچھا تو ایسے گھٹیا معاشرے میں لوگ زندہ کیسے ہیں؟ تم انہیں زندہ سمجھتے ہو؟ ارے یہ سب تو کب کے مر چکے ہیں بس اپنی اپنی باری پہ دفن ہونے کا انتظار کررہے ہیں.

پوچھا: اسلام کا قلعہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چوروں کی تعداد کتنی ہے؟
فرمایا: یہ مت پوچھو چوروں کی تعداد کتنی ہے یہ پوچھو کتنے چور نہیں ہیں، پاکستان میں جتنے بھی لوگ کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں سوائے چند ملٹی نیشنل کمپنیز کو چھوڑ کے سب کے سب چور ہیں سب چوری کی ونڈوز استعمال کرتے ہیں کتنے لوگ ہونگے جو باقائدہ لائسنس لے کر ونڈوز انسٹال کرتے ہونگے؟ دو سو انسٹھہ ڈالر پلس ٹیکس، یہ قیمت بنتی ہے ونڈوز کے لائسنس کی کتنے لوگ ہیں جنہوں نے یہ قیمت ادا کی ہےِ؟
اچھا تو پھر تو میں بھی چور ہوا آپ بھی چور ہوئے، ارے کہا تو ہے ہم سب چور ہیں ہم سب میں میں بھی آگیا تم بھی آگئے، اچھا تو پھر یہ جو بڑے بڑے عالم حضرات بڑے بڑے مدرسے نیٹ پر قرآن اپ لوڈ کرتے ہیں اور اسکا ترجمہ کرتے ہیں، احادیث مرتب کرتے ہیں، دینی مسائل کے حل تجویز کرتے ہیں، نیٹ کے زریعے اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں یہ سب چوری کی ونڈوز پر ہی کر رہے ہیں؟ ہاہاہاہاہاہا سارے سوالوں کے جواب میں ہی دوں کیا کچھہ کشٹ خود بھی اٹھا لیا کرو۔

سازش

Posted: September 19, 2011 in ہمارا المیہ

امریکہ کے فل برائٹ پروگرام سے متعلق بلاگ پر ایک صاحب نے ایک تحریر لکھی ہے http://darveshkhurasani.wordpress.com/2011/09/17/1074/ جسے پڑھنے کے بعد میرا یقین اور زیادہ پختہ ہوگیا ہے کے ہم آج جس بدتر حال میں ہیں بلکل ٹھیک ہیں، دنیا میں کچھہ بھی بےسبب نہیں ہوتا کوئی اگر آسمانوں کی بلندی پر سفر کر رہا ہے تو وہ اس مقام پر بے وجہ نہیں ہے اور کوئی اگر پاتال میں مزید دھنستا جارہا ہے تو اسکی بھی کوئی وجہ ہے، دنیا میں کچھہ بھی بےسبب نہیں ہوتا۔

محترم نے لکھا ہے کے اس پروگرام کے تحت وہ لوگ میڑک اور ایف اے کے طالب علموں کو پرموٹ کرتے ہیں، اور اسکی وجہ محترم نے اپنی ذہنیت کے مطابق یہ لکھی ہے کہ یہ بہت کچی عمر ہوتی ہے اس عمر میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی اور بہکنے کے چانسس بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کے ایسا کچھہ بھی نہیں ہے میڑک اور انٹر کا تو ذکر تک نہیں ہے اس سائٹ پر، اسکالر شپ حاصل کرنے کی جو شرائط اس سائٹ پر درج ہیں ان شرائظ پر تو پاکستان کے اچھے اچھے پھنے خاں پورے نہیں اترتے میڑک اور انٹر کے طالب علموں کی تو بات ہی بہت دور کی ہے، سچ اور جھوٹ کی بلکے جھوٹ کا صیغہ یہاں درست نہیں لگ رہا (جھوٹ کو بغض پڑھا جائے) کی پہچان کے لئیے میں یہاں وہ فل برائٹ پروگرام کا لینک بھی پوسٹ کر رہا ہوں تاکے قارئیں خود فیصلہ کر سکیں

http://www.usefpakistan.org/FulbrightScholar.html

یہ لنک پڑھنے کے بعد زرا غور کیجئیے کے جو شخص پہلے سے اسکالر ہوگا، یا کسی سبجیکٹ میں پی ایچ ڈی ہوگا کیا اسکی ذہنی سطح ایسی ہی ہوگی جیسی کے موصوف نے اپنی پوسٹ میں بیان کی ہے؟ اب ظاہر ہے اتنی تعلیم حاصل کرنے والا پندرہ سولہہ سال کا تو ہو نہیں سکتا، اتنی تعلیم حاصل کرنے والا انسان ٹھیک ٹھاک پختہ عمر تک پہنچ جاتا ہے اور اگر اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور اتنے سال اپنے ملک اپنی قوم اپنے مذہب کے ساتھہ گزارنے کے بعد بھی اگر کوئی اغیار کی محض ایک یا دو سال کی رفاقت سے بھٹک جاتا ہے تو ایسے شخص کے لئیے تو یقین کر لینا چاہئیے کو وہ کبھی بھی اپنے وطن اپنی قوم اپنے مذہب کا تھا ہی نہیں نہ وہ اپنے وطن سے مخلص تھا نہ وہ اپنی قوم سے مخلص تھا اور نہ ہی وہ اپنے مذہب سے مخلص تھا، پھر تو یہ الٹا ہمارے نظام اور ہماری دینی تعلیم کے اوپر سوالیہ نشان ہے کے کیا یہ سب اتنا ہی کمزور تھا کے انکی دو سال کی محنت ہماری سالوں کی ریاضت پر بھاری پڑ گئی؟۔

دنیا جانتی ہے کے چائینہ امریکہ کا بدترین دشمن ہے مگر حیرت کی بات دیکھئیے کے بل گیٹس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی انوسٹمنٹ چائینہ میں تمباکو نوشی کے خلاف اشتہاری مہیم پہ کی ہے وہ چاہتا ہے کے چائینیز تمباکو نوشی ترک کر دیں کیوں کے یہ انسانی صحت کے لئیے بہت مضر ہے، اب ڈھونڈ کر لائیئے اس میں بھی سازش کا پہلو، پاکستان کے بیشتر ایسے ادارے ہیں جو غیر ملکی یا یوں کہہ لیں ان ہی غیر مسلموں کے تعاون سے چل رہے ہیں جس سے پاکستان کے غریب اور نادار لوگ مستفید ہورہے ہیں، میں نے پہلے بھی اپنی پوسٹ میں ذکر کیا تھا جناح ہوسپٹل میں پی اے ایف ایک ادارہ ہے جو کے غریبوں کے لئیے دوائیاں اور تمام قسم کے ٹیسٹ مفت مہیا کرتا ہے یہ ادارہ مکمل طور پر غیر ملکی امداد سے چل رہا ہے، پاکستان کا ہائر ایجوکیشن یعنی ایچ ای سی یہ بھی غیر ملکی امداد سے ہی چل رہا ہے ایسے سینکڑوں ادارے ہیں جو غیر ملکی امداد سے چل رہے ہیں اب ڈھونڈ لائیے ان میں بھی سازش کا پہلو۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم انکے اچھے کاموں میں بھی سازش تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خود تو کچھہ دے نہیں پاتے اپنی قوم کو اگر کوئی انسانیت کے نام پر دے بھی رہا ہو تو اس میں بھی اسکا اپنا ہی مفاد ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں.

قصور ایسے لوگوں کا بھی نہیں ہے مسلہ یہ ہے کے ایسے لوگ جن لوگوں کی پیروی میں عشرے گزار چکے ہیں ان لوگوں نے انکے دماغوں میں اتنے عرصے تک یہ کچھہ غلاضت بھری ہے کیوں کے یہ سیاسی اور نام نہاد مذہبی رہنما خود تو کچھہ دے نہیں پائے آج تک اپنی قوم کو اور نہ ہی کبھی دے سکتے ہیں تو یہ نہیں چاہتے کے یہ کم علم عوام انکے چنگل سے نکلے اور آزاد ہو کر سوچے کے یہ آخر ہمارے ساتھہ ہو کیا رہا ہے اتنے سالوں سے دنیا تو بغیر کسی لالچ کے ہمارے لئیے محض انسانیت کے نام پر اتنا کچھہ کر رہی ہے اتنا کچھہ دے رہی ہے اور جنکے پیچھے ہم عشروں سے چل رہے ہیں انہوں نے ہمیں سوائے نفرت کے لسانیت کے فرقہ بندی کے مسلک پرستی کے کچھہ دیا ہی نہیں ہے، یہ وجہ ہے کے ایسے نام نہاد رہنما اس طرح کی ذہنی پرورش کرتے ہیں لوگوں کی تاکے لوگ اغیار کے اچھے کاموں میں بھی سازش کا پہلو ہی ڈھونڈیں اور انکی دکانیں چلتی رہیں۔

ایسے لوگوں کو میرا مشورہ ہے کے اللہ کے واسطے بغیر تصدیق کئے اسطرح کی غیر مصدقہ باتیں نہ پھیلائیں اگر کچھہ اچھا نہیں کرسکتے تو کم از کم برا بھی نہ کریں اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اسکی تعریف کریں چاہے وہ اپنا ہو یا بیگانا ہو باقی فیصلہ میں پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں قارئین سے گزارش ہے کے فل برائٹ والا لنک ضرور پڑھیں اسے پڑھے بغیر اصل حقیقت تک نہیں پہنچ پائیں گے آپ۔

نپولین بونا پاٹ جو کے انتہائی سخت دل مشہور تھا میں نے اس کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ ایک روز کسی نے نپولین سے پوچھا کے آپکو زندگی میں کبھی کسی پر رحم آیا؟ نپولین نے کہا ہاں ایک بار آیا تھا، ایسا ہوا کے میں ایک دریا کے کنارے کے پاس سے گزر رہا تھا تو میرے کانوں میں ایک عورت کے چیخنے چلانے کی آواز آئی میں نے رک کر دیکھا تو ایک عورت چلا رہی تھی کے میرا بچہ دریا میں ڈوب رہا ہے اسے بچا لو، اس عورت کی ممتا پر مجھے رحم آگیا میں دریا کنارے کے قریب گیا تو دیکھا کے بچہ کنارے کے ساتھہ ہی بہتا ہوا جارہا ہے مجھے رحم آگیا اور میں نے نیزا نکالا اور اس بچے کے سینے میں پیوست کردیا اور اس ہی حالت میں بچے کو باہر نکال کر اس کی ماں کے حوالے کردیا۔

تو یہ تو تھا نپولین بونا پاٹ کا رحم، آج اخبار میں خبر پڑھی کے سانگھڑ کے علاقے سنجورو میں امداد کی تقسیم کے دوران بھگ دڑ مچ گئی سانگھڑ کے علاقے سنجورو کے ایم پی اے رانا عبدالستار کے گارڈذ نے متاثرین سیلاب پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور بچوں سمیت آٹھہ افراد زخمی ہوگئے، یہ خبر پڑھتے ہی مجھے نپولین بونا پاٹ کی رحم دلی یاد آگئی۔

پچھلے سال جب سیلاب آیا تو میں اپنی ویلفئیر سوسائٹی کی جانب سے تمام ممبران کے ساتھہ چار ٹرک سامان لے کر بدین گیا تھا امداد کی تقسیم کے دوران ہمیں بھی ایسے کچھہ واقعات کا سامنا کرنا بڑا تھا لیکن ہم نے تحامل سے اس مسلے سے نمٹا پولیس نے متاثرین کو منتشر کرنے کے لئیے ہوائی فائرنگ کی تھی جسکی ہم نے مخالف کی، مقامی لوگوں کی مدد سے ہم نے اس لوگوں کو سمجھایا کے ہم آپکے لئیے ہی لائے ہیں یہ سامان آپ لوگ تحامل سے اپنے اپنے کیمپ میں جائیں ہمارے والنٹئیر خود آپ کے خیمے تک آپکو سامان پہنچا کے جائیں گے اور اللہ کے شکر سے ایسا ہی ہوا اور بغیر کسی ناخوشگوار واقع کے ہم امداد تقسیم کر کے بخیروعافیت واپس کراچی پہنچے۔

جس ملک میں انعام و اکرام دینے کے لئیے کوئی پیمانے کوئی اصول کوئی ضابطے نہ ہوں وہاں خیرات اور امداد دینے کے بھلا کیا پیمانے کیا اصول ہونگے؟ ان حکمرانوں کے لئیے یہ عوام جانور ہیں کیڑے مکوڑے ہیں جیسے لوگ دور سے کھڑے ہوکر مچھلیوں کے لئیے پانی میں چارہ ڈالتے ہیں ایسے ہی یہ لوگ دور دور سے امداد کے پیکٹ پھینک پھینک کر اچھال اچھال کر دیتے ہیں کہ کہیں یہ کیڑے مکوڑے ہمارے قریب نہ آجائیں اور انکے بدن پہ لگی غلاضت ہماری ظاہری پاکیزگی کو داغدار نہ کردے۔

ایک اور المیے کی طرف نشاندہی کرتا چلوں پاکستان کے کسی بھی علاقے میں جب بھی کوئی بڑی آفت آتی ہے تو ہماری ویلفئیر سوسائٹی کے ممبرز اس آفت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئیے فوراٰ اپنا حصہ ڈالنے کے لئیے جمع ہوجاتے ہیں، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھہ عرض کرنا پڑ رہا ہے کے اس لسانیت کی آگ نے اتنی نفرت پھیلائی کے اس بار کوئی امداد دینے کے لئیے تیار ہی نہیں ہورہا، ہم نے لوگوں سے رابطہ کیا تو ایک ہی جواب ملا کے وہ لوگ ہمیں بھوکا ننگا کہہ رہے ہیں ہمارے اجداد کو گالیاں دے رہے ہیں کراچی میں ہمارے شناختی کارڈ دیکھہ دیکھہ کر ہمارے گلے کاٹے جارہے ہیں ہمیں ہی مارا جارہا ہے اور ہمیں ہی دہشتگرد بھی قرار دیا جارہا ہے ہمیں مارنے کے لئیے لاکھوں کی تعداد میں اسلحہ لائسنس دیئے جارہے ہیں غیر مقامی افراد کو ہزاروں کی تعداد میں پولیس میں بھرتی کیا جارہا ہے تاکے وہ ہم پر گولی چلاتے ہوئے زرا نہ ہچکچائییں اور تم لوگ ہم سے ان لوگوں کے لئیے امداد طلب کرنے آئے ہو، ایسے کئی صاحب ثروت لوگ تھے جنہوں نے یہ سب کہہ کر امداد دینے سے معزرت کرلی، گو کے میں امداد نہ دینے کے لئیے ایک فیصد بھی متفق نہیں ایسے لوگوں کی ایسی سوچ سے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کے جو کچھہ ان لوگوں نے کہا ہے وہ غلط نہیں ہے۔

میرے لئیے یہ بہت ہی افسوس اور قلق کا مقام ہے کے آج ہمیں کہاں لے آئے یہ سیاستدان، آج ہم اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے کے لئیے تیار نہیں ہیں، جس نے اپنی سیاست چمکانے کے لئیے جو بھونکنا تھا وہ تو بھونک کر چلا گیا جو نفرت کا بیج وہ بو گیا ہےاس جاہل انسان کو خود اندازہ نہیں ہوگا کے اب اسکے اثرات کتنے عشروں تک لوگوں کے ذہن میں رہیں گے، میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ان تمام غلیظ سیاستدانوں سے جلد سے جلد نجات دلوائیں جو ہمارے اندر نفرت کی آگ لگا رہے ہیں اور بھائی کو بھائی سے جدا کر رہے ہیں۔

رمضان شریف کی عبادات کے دوران ایسے کئی مناظر دیکھنے کو ملے اور خود مجھہ پر وہ ایسے کئی لمحات گزرے جب چاہ کر بھی بارگاہ الہی میں اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا، میں نے سنا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسا منہ ہی بنا لو تاکے اللہ تم پر رحم کرے، تقریباَ ہر دوسرے شخص کی کیفیت کچھہ ایسی ہی پائی، اللہ کا شکر ہے کے لوگوں کے دلوں میں اب بھی رمضان شریف کا احترام باقی ہے اور لوگوں کی اکثریت رمضان شریف کے روزے بھی رکھتی ہے اور کثرت سے عبادات کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔
لیکن مجھہ سمیت لوگوں کی یہ کیفیت صرف اور صرف نماز پڑھنے کے دوران کی حد تک ہی کیوں ہوتی ہےِ؟ وہ پھل فروش جو ابھی دو منٹ پہلے تک اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا وہ مسجد سے قدم باہر رکھتے ہی اپنا وہ رونا اور گڑگڑانا کیوں بھول جاتا ہےِِ؟ جو پھل پچاس روپے کلو باآسانی کسی بڑی مارکیٹ میں دستیاب ہے وہی پھل یہ پھل فروش سو روپے کلو بڑی ڈھٹائی کے ساتھہ بیچ رہا ہوتا ہے اس وقت اسکا خوف خدا کہاں چلا جاتا ہے؟۔ اور یہ کیسا خوف خدا ہے جو اگلی ہی نماز میں پھر سے لوٹ آتا ہے لیکن صرف مسجد کی حد تک۔ پھل فروش کی تو میں نے صرف مثال دی ہے یہ ہی روش ہم سب کی ہے بڑے سے بڑا افسر ہو یا کوئی معمولی چھابڑی لگانے والا ہو، علامہ اقبال کی روح سے معزرت کے ساتھہ۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
ہر کوئی درندہ بنا ہر کوئی درندہ نواز۔
پاکستان میں صرف ایک ہی چیز ترقی کر رہی ہے اور وہ ہے مہنگائی، کسی کو اپنی حکومت کی فکر پڑی ہے کسی کو بھتوں کی فکر ہے کسی کو نئے صوبوں کی فکر ہے کسی کو آنے والے الیکشن میں کامیابی کی فکر پڑی ہے کسی کو اپنے اپنے مسلک اپنے اپنے فرقوں کے تحفظ کی فکر پڑی ہے ہر کوئی مفکر ہے مگر صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئیے، اس مہنگائی میں غریب نے کیسے روزے رکھے کہاں سے سحری کی کہاں سے افطاری کا بندوبست کیا پھر کہاں سے اپنے بچوں کے لئیے عید کے کپڑے خریدے، خریدے بھی یا نہیں، کسی نے نہیں سوچا اس طرف۔
ہماری ویلفئیر سوسائٹی کو بہت ہی محدود فنڈ ملتا ہے دوست احباب سے جو ہمیں مستحقین تک پہنچانا ہوتا ہے، اس بار فنڈ اتنا ملا کے محض پانچ سو لوگوں تک ہی ہم عید کی خوشیاں پہنچانے میں کامیاب ہوسکے، وہ بھی اللہ بھلا کرے ہمارے ان ممبرز کا جو معاش کی تلاش میں دیار غیر میں جا کر آباد ہوگئے ہیں زمین سے محبت کا رشتہ انہیں اپنی ویلفئیر سوسائٹی سے جوڑے رکھتا ہے اور وہ لوگ دیار غیر سے معقول رقم بھیج دیتے ہیں جس سے ہم ایسے مستحقین کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ستائیس رمضان تک ہم لوگوں تک یہ امانت پہنچا دیتے ہیں، اس بار بہت زیادہ ابتر حالت تھی لوگوں کی عید کا چاند نظر آنے کے بعد بھی رات ایک بجے تک لوگوں کا تانتا بندہ ہوا تھا ویلفئیر سوسائٹی پر جو کسی نہ کسی طرح سے امداد کے طالب تھے، اللہ کا بہت احسان ہے کے اس نے کسی کو خالی ہاتھہ نہیں لوٹایا ہماری سوسائٹی سے مگر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا یہ مستقل حل ہے؟
ایسے کتنے ہی لوگ ہونگے جو اپنے بچوں کو عید کے دن بھی نئے کپڑے نہ دے سکے ہونگے جنکا دسترخوان عید کے دن بھی دال اور چٹنی سے ہی سجا ہوگا، ایک بیوہ خاتون آئیں کہنے لگیں کاشف بھائی آپ لوگوں نے مجھے چھے سال پہلے سلائی مشین لے کر دی تھی میں پچھلے چھے سال سے اس مشین سے سلائی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں اب وہ مشین خراب ہوچکی ہے میری بیٹی اعتکاف میں بیٹھی ہے اور کہتی ہے کے امی کاشف بھائی سے کہنا آپکی چھوٹی بہن اعتکاف میں بیٹھی آپ کے لئیے دعا کر رہی ہے آپ اپنی چھوٹی بہن کے لئیے نئی سلائی مشین لازمی بھیج دینا تاکے ہمارے گھر کا گزر اوقات چلتا رہے، میری آنکھیں نم ہوگئیں اور مارے شرمندگی کے زمین میں گڑھنے کو دل چاہا کیوں کے فنڈ بہت محدود تھا جو کچھہ ممکن تھا وہ تو دیا مگر سلائی مشین کے لئیے فوری طور پر فنڈ موجود نہ تھا، میں نے ان خاتون سے عید کے بعد مشین دینے کا وعدہ کیا اور ممکنا امداد کے ساتھہ انہیں رخصت کیا، اللہ یہ وعدہ بھی پورا کروا دیں گے انشاءاللہ۔
لیکن یہ مسلے کا حل نہیں ہے میرا دل اس دن مطمعین ہوگا جس روز ہم امداد دینے کے لئیے بیٹھے ہونگے اور کوئی امداد لینے والا موجود نہ ہوگا۔ مجھے اپنی زندگی میں تو یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی نا معلوم کب وہ وقت آئے گا جب ہم بھی وہ وقت دیکھیں گے کے جیسا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ کے دور میں ہوتا تھا کے بیت المال بھرا ہوتا تھا اور کوئی زکات خیرات لینے والا ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا تھا۔
اللہ معاف کرے جو حالت لوگوں کی ہوچکی ہے مجھے تو ایسا لگتا ہے کے اگر ایسے ہی حالات رہے اور کسی نے ان حالات کی تبدیلی کے لئیے ٹھوس عملی اقدامات نہ کئیے تو خاکم بہ دہن آنے والے وقتوں میں منظر کچھہ ایسا ہوگا کے اگر کسی کے گھر موت ہوگی تو اہل خانہ مٹھائیاں بانٹا کریں گے دوست احباب مبارک باد دینے آیا کریں گے کہ چلو ایک کھانے والا تو کم ہوا ایک لیبلٹی تو کم ہوئی، اور جس کے گھر بچے کی پیدائیش ہوا کرئے گی تو لوگ اسکے گھر تعزیت کے لئیے جایا کریں گے کف افسوس ملا جایا کرے گا دعائیں کی جایا کریں گی کہ اللہ آپکو صبر عطاء کریں کہ آپکی زمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے آپکی روٹی کے دعوےداروں میں ایک اور دعوے دار کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اللہ کم از کم مجھے تو اس دنیا سے اٹھا لے ایسا وقت آنے سے پہلے، یا پھر کوئی ایسا مرد قلندر پیدا کردے ہمارے درمیان جو اس ملک اور قوم کے تقدیر بدل دے، آمین۔

جو حضرات گردوں کے مرض میں مبتلا ہوں اور انکی بیماری ڈتیلاسز تک آگئی ہو کیونکے یہ عمل خاصہ مہنگا ہے اسلئیے اگر کسی کی قوت برداشت میں یہ خرچہ نہ ہو تو ایسے حضرات مندرجہ ذیل ادارے سے رابطہ کر سکتے ہیں یہ ادارہ ایسے مستحق مریضوں کو یہ سہولت مفت فراہم کرتا ہے۔
ایس ٹی ڈئیلاسز سینٹر
عبدالمجید صاحب سے ان نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے 021-34531551 021-34531552
اسکے علاوہ ایسے مستحق حضرات جنہیں کھانسی سے لے کر کینسر تک کوئی بھی بیماری ہو وہ کورنگی میں قائم انڈس ہوسپٹل سے رابطہ کریں وہاں ہر بیماری کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔
اسکے علاوہ جو مستحق حضرات جناح ہوسپٹل میں زیر علاج ہیں اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے کے جناح ہوسپٹل میں علاج تو مفت میں ہوجاتا ہے لیکن مہنگی مہنگی دوائیاں لوگوں کو خود بازار سے ہی خریدنی پڑتی ہیں، اکثر لوگوں کے علم میں یہ بات نہیں ہے کے جناح ہوسپٹل کے مین گیٹ داخل ہوتے ہیں سیدھے ہاتھہ پر ، پی اے ایف جو کے غالباَ مخفف ہے پیشنٹ ایڈز فاونڈیشن کا، یہ ایک ادارہ ہے جو کے غیر ملکی امداد سے چلتا ہے جو بھی جناح ہسپتال میں زیر علاج ہو اگر وہ ڈاکڑ کی پرسکرپشن ڈاکڑ کی اسٹامپ لگوا کر پی اے ایف سے رجوع کریں تو یہ ادارہ نہ صرف مہنگی سے مہنگی دوائیاں دینے کا مجاز ہے بلکے مہنگے سے مہنگا ٹیسٹ بھی کروا کے دینے کا مجاز ہے۔
اسکے علاوہ آنکھوں کی بیماری سے مطعلق جیسا کے موتیا وغیرہ کا آپریشن اگر کسی مریض کو درکار ہو تو ایسے مستحق افراد بھی مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں مستحق افراد کے موتیا کے فری آپریشن کی سہولت ہماری ویلفئر سوسائٹی کے پاس موجود ہے لینز سے لیکر تمام دوائیاں تک مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر آپ تمام بلاگرز حضرات کے علم میں ایسا کوئی مستحق مریض ہو تو انہیں یہ معلومات لازمی دیں تاکے کسی متحق کا بھلا ہوسکے۔ اسکے علاوہ اگر مریض جناح ہسپتال کے علاوہ کہیں اور زیر علاج ہے اور وہ دوائیاں اور ٹیسٹ کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا تو ایسے حضرات کے لئیے میرا موبائیل نمبر حاضر ہے وہ مجھہ سے رابطہ کریں میں اپنی ویلفئیر سوسائٹی کے توسط سے ایسے حضرات کے لئیے دوائیاں اور ٹیسٹ کا بندوبست پی اے ایف سے ہی کروا دونگا۔ یہ المیہ ہے ہمارا کے بغیر جان پہچان کے ہمارے ملک میں کم از کم کسی غریب کا بھلا تو ممکن نہیں ہے، آپ تمام بلاگرز سے التماس ہے کے اگر آپکے علم میں ایسا کوئی معاملہ آئے تو ایسے مستحق افراد کو یہ تمام معلومات لازمی فراہم کریں اللہ ہم سب کے حق میں انشاءاللہ بہتری فرمائیں گے، آمین۔ میرا موبائیل نمبر یہ ہے۔ 03452343296

کچھہ لوگوں کو اب تک یہ غلط فہمی ہے کے ہم پاکستانی اخلاقی طور پر غیر مسلموں سے کہیں بہتر ہیں، میری تو سمجھہ یہ بات نہیں آتی کہ ہم اخلاقی طور پر ان سے کیسے بہتر ہیں، جو کام وہ سر عام کرتے ہیں وہ ہی سب کام ہمارے معاشرے میں چوری چھپے ہوتے ہیں اور کئی مسلم ممالک میں تو سر عام ہی ہوتے ہیں، دبئی مصر لبنان وغیرہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔

ایک غلط فہمی اور ہے کہ ہم نے اخلاقیات کو محض شراب نوشی اور عریانیت سے وابسطہ کردیا ہے، ارے بھائی قانون پر عمل کرنا بھی اخلاقیات کے زمرے میں ہی آتا ہے، کسی بھی قوم کی اخلاقی حالت جاننے کے لئیے تو اتنا ہی کافی ہے کے اس کے ٹریفک سگنلز پر کھڑے ہوکر مشاہدہ کرلو اندازہ ہو جائے گا کے اس قوم کی اخلاقی پستی کی کیا حالت ہے، ان کے ہاں ہر خاص و عام قانون کا احترام کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسا پاکستانی نہیں جو کسی نا کسی صورت ہر روز قانون شکنی نہ کر رہا ہو، غریب سے لے کر امیر تک ہر شخص نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قانون کو رنڈی بنا کے رکھا ہوا ہے، جسکی جتنی حیثیت ہے وہ اتنی ہی قانون شکنی کرتا ہے جسکی حیثیت دس روپے کی ہے وہ دس روپے دے کر قانون کے ساتھہ زنا کر رہا ہے اور جسکی حیثیت دس لاکھہ کی ہے وہ دس لاکھہ دے کر قانون کے ساتھہ زنا کر رہا ہے۔

رہی بات شراب اور زنا کاری کی تو وہ تو مسلم ممالک میں بھی ہوتے ہیں، کہیں کھلے اور کہیں ڈھکے چھپے، شراب تو سعودیہ عرب میں بھی با آسانی دستیاب ہے۔ وہ لوگ زنا شخصی آذادی کے نام پر کررہے ہیں تو ہم کونسے کم ہیں ان سے، ونی اور کاری ہمارے ہاں کیا جاتا ہے، انتقام لینے کے لئیے عورتوں کے سر عام برہنہ کر کے ہمارے ہاں پھرایا جاتا ہے، پانچ پانچ سال کی معصوم بچیوں کے ساتھہ ہمارے ہاں زنا کاری کی جاتی ہے، انسان تو انسان جانوروں اور ہیجڑوں تک کو نہیں چھوڑتے ہم عنیقہ ناز نے اپنی آخری تحریر میں اس طرف اشارہ کیا ہے یہ بلکل صحیح بات ہے یہ سب ہمارے معاشرے میں ہی ہوریا ہے.

میں کسی قوم کسی صوبے کا نام نہیں لینا چاہتا کہ یہ سب ہر قوم اور ہر صوبے کے لوگ کر رہے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے بغل بچے کے لئیے ایک دوسرے کو دست گریبان یہاں تک کے فائرنگ ہوتے دیکھی ہے، بڑے تباک سے بڑے فخر کے ساتھہ لڑکے کو بغل میں بٹھا کے علاقے میں گھوما جاتا ہے یہاں تک کے ایک وڈیرا دوسرے وڈیرے کو تحفے میں لڑکا دیتا ہے یہ سب کہیں اور نہیں ہمارے معاشرے میں ہی ہورہا ہے یہ ہم عظیم مسلمان عظیم پاکستانی ہی کر رہے ہیں۔

الحاج فلاں فلاں فلاں بڑے بڑے ناموں کی تختیاں گھر کے باہر لگائی ہوتی ہیں اور گھر میں بچلی چوری کی استعمال ہوری ہوتی ہے، گوشت انہیں پوری طرح سے اسلامی طریقے کے مطابق حلال کیئے ہوئے جانور کا چاہئیے ہوتا ہے مگر جس پیسے سے وہ حلال گوشت خرید رہے ہیں کبھی اس طرف نہیں سوچتے کے یہ پیسے بھی حلال ہیں یا نہیں، بس جانور ذبح ہوتے وقت اللہ ہواکبر کہنا لازمی ہے باقی سب اللہ معاف کردے گا.

بڑے بڑے حاجیوں کی دکانوں پر لکھا ہوتا ہے خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں کیا جائے گا جبکہ یہ عین غیر اسلامی فعل ہے مگر اس پر کسی کا دھیان نہیں جاتا، جھوٹ، چوری، دھوکہ، دغا، رشوت، سود، ملاوٹ، حرام کاری، کم تولنا، نقض چھپا کے بیچنا، وطن فروشی کرنا، اسلام فروشی کرنا، ملک سے غداری کرنا، ایسی کونسی برائی ہے جو پاکستان میں پریکٹس نہیں ہورہی، پھر بھی یہ امتیاز کے ہم سب سے بہتر ہیں ہم اعلیٰ اقدار کے حامل ہیں، ہوسکتا ہے کچھہ لوگوں کے نزدیک یہ سب کچھہ ہی اسلامی اقدار ہوں مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔

شراب، ٹھرا، ادھا پوا، بمباٹ، یہ سب کون پی رہا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو زہریلی شراب پی کر آئے دن مرے پڑے ہوتے ہیں؟۔ اخلاقیات کا بے کار کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہی کر رہے ہیں یہ سب۔ وہ پھر بھی ہم سے بہتر ہیں کے جو کر رہے ہیں سر عام کر رہے ہیں دنیا سے چھپ کر نہیں کر رہے، ہم تو منافق ہیں کے کام سارے وہ ہی کر رہے ہیں مگر چھپ کر اور دنیا کے آگے پارسہ بنتے ہیں۔

نہ صرف عوام بلکے مسلم ممالک کے حکمران تک ایک نمبر کے عیاش ہیں، یہ سولہ سترہ سال کی معصوم لڑکیاں عرب ممالک سے شیخ کیا انہیں حچ کروانے کے لئیے خرید کے لے کر جاتے ہیں ؟ کونسا ایسا عرب حکمران ہے جسکے حرم میں سو دو سو بیویوں نہیں ہیں۔ نکاح نامے کو زنا کا سرٹیفکٹ بنا کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے، پھر بھی یہ بہیودہ پروپیگنڈا کے ہم سب سے عظیم ہیں ہم جنت کے حقدار ہیں، کسے جنت میں جانا ہے اور کسے جہنم میں یہ اللہ کا کام ہے اللہ پر ہی چھوڑ دو بھائی، اور دوسروں کی اخلاقیات پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لو کے ہم مسلمان کیا کر رہے ہیں

بریکنگ نیوز: قصبہ کٹی پہاڑی میں دو گھنٹے مسلسل کامیاب آپریشن کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گل خان لالا کے ہاں دو بچوں کی پیدائش۔

یہ میسج مجھے میرے موبائل پر ایک ایسے وقت میں موصول ہوا جس وقت کراچی میں کم از کم سو سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دئیے گئے تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب پوری قوم کو سوگوار ہونا چاہئیے تھا، کراچی کے جن متاثرہ علاقوں میں ہمارے پاکستانی اور مسلمان بھائی بے موت مارے جارہے ہیں انکے درد کو اپنا درد سمجھنا چاہئیے تھا کہ اگر آج آگ دوسرے کے گھر میں لگی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل یہ آگ میرے گھر تک نہیں پہنچے گی؟ ۔

مجھے یہ میسج بھیجنے والے موصوف ماشاءاللہ سے حافظ قرآن ہیں، انکا بھی وہ ہی المیہ ہے جو پاکستان کے نوے فیصد حفاظ کا ہے کے ان کے سینے میں قرآن محض عربی کے الفاظوں کے جھمگٹے کے سواء کچھہ بھی نہیں۔ لفظ بہ لفظ قرآن رٹ لیا ہے مگر ان لفظوں میں اللہ بیان کیا کر رہے ہیں یہ سب انہیں پتہ نہیں ہوتا۔
بے حسی کی انتہا ہے یہ اور اس بے حس قوم کو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماء یہ کہہ کر چنے کے جھاڑ پر چڑھا رہے ہوتے ہیں کے پاکستانی قوم غیور ہے با شعور ہے لعنت ہے ایسی قوم پہ اور لعنت ہے ایسے مذہبی اور سیاسی رہنماوں پہ جو اس بے حس اور جانوروں سے بھی بدتر گھٹیا قوم کو غیور اور با شعور کہہ کر صحیح معنوں میں با شعور قوموں کی توہین کرتے ہیں۔

ایک کوئے کو مار کر زمین پر گرا دیں آپ پھر دیکھیں کووں کی یکجحتی کووں کا شعور کے سارے کوئے جمع ہوجاتے ہیں اس مقام پہ جس جگہ انکا ہم نسل شہید ہوا ہوتا ہے اور چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں اور باقائدہ اپنے جونچ سے اس جگہ موجود ان لوگوں کے سروں کو زخمی کر دیتے ہیں جو انکے ہم نسل کی موت کا تماشہ دیکھہ رہے ہوتے ہیں، ثابت ہوگیا کے ہم جانوروں، چرند، پرند سے بھی گئے گزرے لوگ ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں ہم نسلوں یعنیٰ انسان کی بے رحمانہ موت بے رحمانہ قتل کو بھی شغل میلہ سمجھتے ہیں، حدیث ہے کے، ایک انسان کی جان کی قیمت کعبے کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔

حدیث میں انسان کہا گیا ہے مسلمان نہیں یہاں تو مارنے والا بھی مسلمان مرنے والا بھی مسلمان اور انکے بے رحمانہ قتل کو شغل میلہ سمجھہ کر انجوئے کرنے والا بھی مسلمان ہے۔ لکھنا تو بہت کچھہ تھا مگر جذبات دل و دماغ اس وقت کچھہ بھی قابو میں نہیں ہے اسلئیے مزید لکھنے سے قاصر ہوں۔